ڈبل بیڈ، اے سی اور بڑی ٹی وی اسکرینیں: جیل میں لگژری سیلز پر انڈونیشیائی حکام معطل

انڈونیشیا میں جیل کے اچانک معائنے کے دوران قیدیوں کے لیے ڈبل بیڈ، ایئر کنڈیشنر، بڑی ٹی وی اسکرینیں، صوفے اور ڈائننگ ایریاز سے مزین لگژری رہائشی یونٹس کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد جیل کے سربراہ سمیت 5 اعلیٰ حکام کو معطل کردیا گیا۔

اخبار دی گارجین کے مطابق انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے قریب واقع سیبونگ جیل میں محتسب کے دفتر کے حکام نے 23 ستمبر کو اچانک معائنہ کیا، جہاں انہیں عام جیل کی بیرکوں سے الگ 10 سے زائد رہائشی یونٹس ملے۔

محتسب کی رکن شافریدا رچماوتی راساہان کے مطابق شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض قیدیوں کو ایسی خصوصی سہولیات حاصل تھیں جو عام قیدیوں کو دستیاب نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکام نے رہائشی کمپاؤنڈ کے اندر قیدیوں کو موجود پایا، جبکہ وہاں موجود سہولیات عام جیل کے بجائے گھروں، اپارٹمنٹس اور ولاز جیسی دکھائی دیتی تھیں۔

تحقیقاتی ٹیم کو ان یونٹس میں صوفے اور کھانے کے لیے الگ جگہیں بھی ملیں، جبکہ کمپاؤنڈ میں ایک جم اور گالف سمیولیٹر بھی زیرِ تعمیر تھا۔ بعض یونٹس کے ساتھ مہنگی گاڑیوں کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی۔

انڈونیشیا کی وزارتِ امیگریشن و اصلاحات کے انسپکٹر جنرل روڈی سیتیاوان نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کے دوران درجنوں قیدیوں اور جیل ملازمین سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

ان کے مطابق جیل کے سربراہ سمیت 5 انتظامی افسران کو معطل کردیا گیا ہے جن پر محتسب کے دفتر کی جانب سے سامنے آنے والے معاملے کی ذمہ داری کا شبہ ہے۔

تقریباً 4 ہیکٹر رقبے پر قائم سیبونگ جیل میں بدعنوانی سمیت مختلف جرائم میں سزا پانے والے قیدی بھی موجود ہیں۔ تاہم ان قیدیوں کی شناخت سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ ان خصوصی رہائشی یونٹس میں قیام پذیر تھے۔

قانون سازوں، انسدادِ بدعنوانی کے کارکنوں اور نگرانی کرنے والے اداروں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سہولیات میں رہنے والے قیدیوں کے نام سامنے لائے جائیں اور یہ بھی تحقیقات کی جائیں کہ آیا خصوصی مراعات کے بدلے جیل حکام کو رقم دی گئی تھی۔

روڈی سیتیاوان کے مطابق یہ عمارتیں اصل میں جیل کے عملے کے لیے سرکاری رہائش گاہوں کے طور پر بنائی گئی تھیں، تاہم تحقیقات جاری ہیں کہ آیا انہیں غیر قانونی طور پر قیدیوں کے لیے رہائش میں تبدیل کیا گیا۔

Related posts