محمد رضوان کو این سی سی آئی اے کا دوسرا نوٹس موصول: موبائل فرانزک کے لیے طلب

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا نوٹس موصول ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق قومی کرکٹر محمد رضوان کو 2 اکتوبر کو این سی سی آئی اے لاہور کے دفتر میں طلب کیا گیا ہے، کرکٹر کو موصول ہونے والا یہ دوسرا نوٹس ہے۔

قریبی ذرائع کے مطابق محمد رضوان کو ان کے گھر کے ایڈریس پر نوٹس موصول ہوا، جس میں انہیں موبائل کی فارنزک کے لیے 2 اکتوبر سہہ پہر 3 بجے این سی سی آئی اے میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ محمد رضوان اپنے وکیل کے ساتھ این سی سی آئی اے پیش ہوں گے۔ این سی سی آئی اے کے نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آپ سے ضبط شدہ موبائل کا تجزیہ اور فارنزک کرنا ہے۔

قریبی ذرائع کے مطابق الزامات کی تفصیلات نوٹس میں فراہم نہیں کی گئیں، این سی سی آئی اے کو بھیجے گئے خط کا جواب موصول نہیں ہوا، رضوان این سی سی آئی اے پیشی پر اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تفصیلات پوچھیں گے۔

معاملہ کہاں سے شروع ہوا؟

محمد رضوان کا این سی سی آئی اے سے متعلق معاملہ پاکستان کے حالیہ دورۂ انگلینڈ کے بعد سامنے آیا۔ پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ اسکواڈ کے 7 کھلاڑیوں کو ٹیم سے الگ کردیا تھا، جن میں محمد رضوان، امام الحق اور سلمان علی آغا بھی شامل تھے۔

31 اگست کو انگلینڈ میں محمد رضوان کا موبائل فون تحویل میں لیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ رضوان کے مطابق انہوں نے اسی وقت موبائل فون کا پاس ورڈ فراہم کیا اور ان کی موجودگی میں فون کا جائزہ بھی لیا گیا۔ ان کے بقول انہیں بتایا گیا تھا کہ فون تین گھنٹے میں واپس کردیا جائے گا اور ڈیجیٹل فارنزک کا عمل جلد مکمل ہوجائے گا۔

بعد ازاں محمد رضوان اور امام الحق کو این سی سی آئی اے نے لاہور طلب کیا۔ دونوں کھلاڑی 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوئے، جہاں ذرائع کے مطابق ان سے موبائل فونز سے حاصل ہونے والی معلومات سے متعلق سوالات کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق این سی سی آئی اے کی تحقیقات میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے دوران مبینہ ڈریسنگ روم معلومات کے لیک ہونے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا جب کہ دونوں کھلاڑیوں سے انگلینڈ میں پریکٹس سیشنز اور میچز کے دوران رابطوں اور ملاقاتوں سے متعلق سوالات کیے گئے۔

این سی سی آئی اے کے نوٹس سے متعلق عدالتی کارروائی میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق انکوائری کا بھی ذکر سامنے آیا۔ تاہم تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی کھلاڑی کے خلاف حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

محمد رضوان نے عدالت سے بھی رجوع کیا

این سی سی آئی اے کے نوٹس کے خلاف محمد رضوان نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ 17 ستمبر کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں این سی سی آئی اے کی انکوائری میں شامل ہونے اور جواب دینے کی ہدایت کی۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ کال اپ نوٹس معلومات جمع کرنے کا ایک طریقہ کار ہے اور بذاتِ خود کسی غلط کاری کا الزام ثابت نہیں کرتا۔ بعد میں جاری تحریری حکم میں عدالت نے این سی سی آئی اے کو محمد رضوان کو غیر ضروری طور پر ہراساں نہ کرنے کی ہدایت بھی کی۔

رضوان نے این سی سی آئی اے کو کیا لکھا؟

29 ستمبر کو محمد رضوان کی جانب سے این سی سی آئی اے کو لکھے گئے دوسرے خط کی تفصیلات سامنے آئیں۔ رضوان نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اب تک تحریری طور پر انکوائری کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی مزید کارروائی کے لیے رابطہ کیا گیا۔

انہوں نے موبائل فون واپس کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیشی کے دوران حکام کو ان کے اَن لاک موبائل فون تک رسائی حاصل تھی اور پیغامات سمیت دیگر مواد کا جائزہ لیا گیا تھا۔ رضوان نے خط میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے کسی مرحلے پر موبائل فون کا پاس ورڈ دینے سے انکار نہیں کیا۔

اس کے بعد اب این سی سی آئی اے کی جانب سے رضوان کو دوسرا نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت انہیں 2 اکتوبر کو سہ پہر 3 بجے لاہور میں پیش ہوکر موبائل فون کے فرانزک عمل میں شامل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Related posts