‘روس بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہا ہے’: یوکرینی صدر کا انکشاف
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق روس یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے پیش نظر یوکرینی سیکیورٹی اداروں اور فضائیہ کو ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
زیلنسکی نے منگل کی شب اپنے ویڈیو خطاب میں کہا کہ روس کی جانب سے بڑے حملے کی تیاری سے متعلق نئی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے یوکرینی شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی حفاظت کا خیال رکھیں اور میزائل حملوں کے الرٹ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری ردعمل دیں۔
یوکرینی صدر کے مطابق ملک کے سیکیورٹی ادارے اور فضائیہ روسی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، تاہم دفاعی کارروائی کی صلاحیت یوکرین کو دستیاب وسائل تک محدود ہوگی۔ انہوں نے ممکنہ حملے کے وقت یا اہداف کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی۔
زیلنسکی نے کہا کہ روسی حملے کے خلاف یوکرین کی دفاعی صلاحیت بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ امریکا، یورپ اور دیگر اتحادی ممالک اسے کس نوعیت کے دفاعی ہتھیار اور دیگر وسائل فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یوکرین کو خاص طور پر فضائی دفاع کے لیے درکار صلاحیتوں کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں اتحادی ممالک کا سیاسی عزم انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین کے دفاع کے لیے ہر اس ملک کا تعاون اہم ہے جس کے پاس مطلوبہ دفاعی صلاحیت موجود ہے اور جو اسے یوکرین کو فراہم کرسکتا ہے۔ زیلنسکی نے امریکا، یورپ اور دیگر شراکت داروں سے تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔
دوسری جانب یوکرینی صدر نے اسی خطاب میں بتایا کہ ملکی حکام نے دفاعی تیاریوں کے حوالے سے اجلاس بھی کیا، جس میں الیکٹرانک وارفیئر، فضائی دفاع اور روسی ڈرون حملوں سے نمٹنے کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔ ان کے مطابق روسی ’شاہد‘ ڈرونز کی ایک بڑی تعداد کو یوکرین کے الیکٹرانک وارفیئر نظام کے ذریعے ناکارہ بنایا جاتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین میں روسی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کے روز بھی روسی فضائی حملوں میں دارالحکومت کیف میں 2 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دیگر یوکرینی شہروں میں صنعتی، ٹرانسپورٹ اور رہائشی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
روس نے حالیہ دنوں میں یوکرین پر حملے مزید تیز کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین میں فوجی تنصیبات، دفاعی صنعت اور اس سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ ماسکو نے اپنے حملوں کو یوکرینی کارروائیوں کا جواب قرار دیا ہے۔