ایک بار پھر نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ٹرمپ غصہ، فیصلہ شرمناک قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2026 کا نوبیل امن انعام نہ ملنے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ناروے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کو یہ انعام ملنا چاہیے تھا، تاہم ان کے بقول ان کی کامیابیوں کو نظر انداز کیا گیا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکا اس فیصلے کو نہیں بھولے گا۔

امریکی صدر نے جمعے کو نیویارک کے شہر سیراکیوز میں ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنی تقریر کا خاصا حصہ نوبیل امن انعام نہ ملنے کی شکایت میں صرف کیا۔ انہوں نے انعام دینے کے فیصلے کو امریکا کے لیے شرمناک اور ناروے کی ساکھ پر داغ قرار دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں بطور صدر نوبیل امن انعام ملنا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق نوبیل امن انعام کمیٹی کے فیصلے نے انعام کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے ذمہ دار افراد جمہوریت مخالف ہیں اور تہذیب کے دشمن ہیں۔ ٹرمپ نے ناروے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا یہ بات نہیں بھولے گا کہ اسے امن کا نوبیل انعام نہیں دیا گیا۔

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ان تنازعات اور جنگوں کا بھی ذکر کیا جنہیں ختم کرنے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم ان کے بیان میں شامل بعض تنازعات یا تو باقاعدہ جنگیں نہیں تھے یا اب تک حل نہیں ہوئے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ وہ ایران اور روس یوکرین جنگ کو بھی جلد ختم کر دیں گے۔

ایران کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاملہ کسی نہ کسی صورت میں بہت جلد حل ہو جائے گا۔ ان کے بقول ایران یا تو امریکا کے تمام مطالبات تسلیم کرے گا یا اس کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ ان کا یہ بیان ایران کے بارے میں سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا اور اس طرح مشرق وسطیٰ سمیت یورپ اور ممکنہ طور پر امریکا میں بھی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خطرہ ٹالا۔ تاہم امریکی انٹیلی جنس اداروں کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے 2003 میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوششیں معطل کر دی تھیں۔ اس لیے ٹرمپ کے دعوے کو اس رپورٹ کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

نوبیل امن انعام نہ ملنے پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے انعام کی فاتح ناوانیتھم ناوی پلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے انہیں اقوام متحدہ میں کام کرنے والی ایک لبرل شخصیت قرار دیا اور کہا کہ ان کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

ناوی پلے جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی معروف وکیل ہیں اور اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے شعبے میں اعلیٰ عہدے پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے اس تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی بھی کی تھی جس نے ستمبر 2025 میں اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے۔ اسرائیل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

ناوی پلے کو امن اور عالمی قانون کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں 2026 کا نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ جنوبی افریقا میں نسلی امتیاز کے دور میں پرورش پانے والی ناوی پلے نے وکالت کے ذریعے انسانی حقوق کے لیے کام کیا اور نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے والے افراد کا عدالتوں میں دفاع کیا۔

نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ٹرمپ کی ناراضی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انہوں نے ایران اور روس یوکرین جنگ کے حوالے سے بھی جلد نتائج حاصل کرنے کے دعوے کیے ہیں۔ ان کی تقریر میں امن انعام کے فیصلے پر تنقید کے ساتھ ساتھ ان کی خارجہ پالیسی اور عالمی تنازعات سے متعلق مؤقف بھی نمایاں رہا۔

Related posts