یوکرین کا اسپیس ایکس پر ڈرون حملوں میں رکاوٹ بننے کا الزام

یوکرین نے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ملک میں اسٹارلنک کی فوجی خدمات پر اچانک پابندیاں عائد کرکے یوکرینی فوج کے ڈرون حملوں اور فضائی دفاعی کارروائیوں کو متاثر کیا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق ان پابندیوں کے باعث کئی فوجی مشنز متاثر ہوئے، جبکہ روسی ڈرونز کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے یوکرینی انٹرسیپٹر ڈرونز کی کارکردگی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں اور یوکرین کی حکومت کو خدشہ ہے کہ امریکا کی جانب سے جنگی معاونت میں کمی اس کی دفاعی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان پر بھی تنقید کی جس میں انہوں نے یوکرین کو روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کا مشورہ دیا اور یوکرینی عوام سے زیلنسکی کی جگہ نیا رہنما منتخب کرنے پر زور دیا تھا۔

زیلنسکی نے پروگرام ’پیئرز مورگن اَن سینسرڈ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تکلیف ہوتی ہے جب صدر ٹرمپ یوکرین کے بجائے دوسرے فریق کا ساتھ دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی صدر یوکرین اور روس کے درمیان غیر جانب دار کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس توازن کو برقرار رکھنا چاہیے۔

اسٹارلنک کی فوجی خدمات پر پابندیوں کے حوالے سے سوال پر زیلنسکی نے کہا کہ یہ ایک بڑی غلطی ہے اور اس فیصلے کے نتیجے میں بہت سی انسانی جانیں ضائع ہوسکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس پابندی کا ذمہ دار کون ہے۔

اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسٹارلنک سسٹم کی رفتار یا استعمال پر کسی بھی قسم کی پابندی کا فیصلہ امریکی فوج کرتی ہے اور حتمی اختیار امریکی صدر کے پاس ہے۔ مسک امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی سیاسی اتحادی ہیں۔

زیلنسکی نے ٹرمپ کے اس بیان کو بھی مسترد کیا کہ یوکرین کو نیا رہنما درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا صدر منتخب کرنا یوکرینی عوام کا اختیار ہے اور نہ ٹرمپ، نہ مسک اور نہ ہی دنیا کا کوئی دوسرا شخص کسی دوسرے ملک کے صدر کا انتخاب کرسکتا ہے۔

امریکی وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

اسٹارلنک کی رفتار محدود کرنے سے فوجی کارروائیاں متاثر

یوکرینی فوجی حکام کے مطابق اسپیس ایکس نے پیشگی اطلاع دیے بغیر فوجی معیار کے اسٹارلنک ٹرمینلز کے کام میں رکاوٹیں پیدا کرنا شروع کردیں، خصوصاً اس وقت جب یہ آلات تیز رفتار سے حرکت کررہے ہوتے ہیں۔

اسٹارلنک کے ٹرمینلز سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ رابطہ فراہم کرتے ہیں۔ یوکرین نے اپنے متعدد ڈرونز میں یہ آلات نصب کررکھے ہیں تاکہ انہیں دورانِ پرواز رہنمائی اور رابطے کی سہولت میسر رہے۔ یہ نظام یوکرین کے مختلف علاقوں میں استعمال ہوتا ہے، جن میں روسی افواج کے زیر قبضہ علاقے بھی شامل ہیں۔

یوکرینی صدر کے مشیر سرہی بیسکریستنوف نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ یوکرین کی دفاعی افواج کو اس پابندی کے بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں کئی فوجی مشنز متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق پابندی کا تعلق اسپیس ایکس کی فوجی اور انٹیلی جنس خدمات اسٹار شیلڈ سے بھی ہے۔

یوکرینی حکام کے مطابق اسٹارلنک کے ٹرمینلز کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم یوکرینی وزارتِ دفاع کے ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ بعض فوجی یونٹس نے اس سے بھی کم رفتار پر ڈرونز کے رہنمائی نظام کا رابطہ منقطع ہونے کی شکایت کی ہے۔

ان پابندیوں سے یوکرین کے لیے روسی اہداف کے خلاف ڈرون حملے کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ روسی ڈرونز کو فضا میں روکنے کے لیے استعمال ہونے والے یوکرینی انٹرسیپٹر ڈرونز بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

یوکرین کی وزارتِ دفاع کے ایک ذریعے کے مطابق کیف اس اچانک پیش رفت کی وضاحت حاصل کرنے کے لیے اسپیس ایکس، امریکی حکومت اور نیٹو سے رابطے میں ہے۔

پولینڈ نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے، کیونکہ وہ یوکرین کی جانب سے اسٹارلنک خدمات کے استعمال کے اخراجات برداشت کررہا ہے۔

پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسواف سکورسکی نے ایلون مسک کو مخاطب کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ کیا وہ اپنی مصنوعات کے ذریعے سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یورپی صارفین اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مسک کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

روسی حملوں میں بجلی کا نظام متاثر، لاکھوں افراد اندھیرے میں

اس دوران روس نے یوکرین کے مختلف شہروں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے جاری رکھے، جس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی اور سیکڑوں ہزار افراد بجلی سے محروم ہوگئے۔

کیف میں رات بھر ہونے والی بمباری کے بعد امدادی کارکنوں نے تباہ شدہ رہائشی عمارت سے زخمیوں کو نکالا، جبکہ فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف رہے۔ حکام کے مطابق اس مقام پر دو افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے۔

یوکرینی حکام نے بتایا کہ روسی حملوں کے دوران تقریباً چھ لاکھ افراد بجلی سے محروم ہوگئے۔ حملوں میں یوکرین کے دو بڑے شہروں کیف اور خارکیف کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔

روسی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ اس کی افواج نے کیف اور اس کے اطراف میں چار جبکہ خارکیف میں دو بجلی گھروں سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔ زیلنسکی کے مطابق حملوں میں توانائی کی 30 تنصیبات کو نقصان پہنچا۔

یوکرین کے مغربی شہر لوتسک میں بھی روسی حملوں کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔ علاقائی گورنر کے مطابق حملے میں ایک گودام اور رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا۔

زیلنسکی نے ان حملوں کو امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کی اپیل کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر کہا تھا کہ روس اور یوکرین دونوں توانائی کے اہداف پر حملے روکنے پر متفق ہوگئے ہیں، تاہم دونوں ممالک نے اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تھی۔

زیلنسکی نے ایکس پر لکھا کہ روسی حملے دانستہ طور پر کیے گئے اور ان کا پیمانہ امریکا کے لیے واضح پیغام تھا۔ ان کے مطابق روس نے امریکی صدر کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

امریکا کی انٹیلی جنس معاونت پر بھی خدشات

اسٹارلنک کی خدمات میں رکاوٹوں کے ساتھ یوکرین کو امریکی انٹیلی جنس معاونت کے حوالے سے بھی خدشات لاحق ہیں۔

ذرائع نے رائٹرز اور دیگر ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ امریکا نے یوکرین پر دباؤ ڈالنے کے لیے روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی صورت میں میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع دینے سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

یوکرینی حکام نے منگل کی رات بتایا تھا کہ انہیں مسلسل دوسرے روز مغربی اتحادیوں کی جانب سے روسی میزائل حملوں سے پہلے کوئی پیشگی انتباہ موصول نہیں ہوا۔ تاہم ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ امریکا اب بھی یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کررہا ہے۔

یوکرین نے اس دوران روس کے اندر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملے بھی جاری رکھے۔ رائٹرز کے مطابق یوکرینی ڈرونز نے روس کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا، تاہم کیف کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال امریکی صدر کے بیان کا احترام کرتے ہوئے توانائی کے اہداف پر حملوں سے گریز کررہا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ نے یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے 4 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ مالیت کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے زیلنسکی سے لندن میں ملاقات کے بعد بتایا کہ اس پیکیج میں سے ایک کروڑ پاؤنڈ کے میزائل فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے جلد فراہم کیے جائیں گے۔

اس تمام صورت حال نے یوکرین کے لیے دوہرا چیلنج پیدا کردیا ہے: ایک طرف روسی حملوں سے بجلی کے نظام اور شہری آبادی کو نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسٹارلنک کی فوجی خدمات میں رکاوٹوں اور امریکی معاونت سے متعلق غیر یقینی صورت حال نے یوکرین کی ڈرون کارروائیوں اور دفاعی صلاحیت کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

Related posts