بھارت کی چھوٹی سی کالونی کا پانی بند کرنے کا معاملہ اقوامِ متحدہ تک پہنچ گیا
بھارتی شہر کولکتہ کی جیوتی نگر کالونی میں مسلم آبادی کو پانی کی فراہمی بند کیے جانے کا معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچ گیا۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان سمیر الاسلام نے علاقے کے مکینوں کو پینے کے پانی کی فراہمی بحال کرانے کے لیے عالمی ادارے سے مداخلت کی اپیل کردی۔
بی بی سی سے منسوب رپورٹ کے مطابق جیوتی نگر کالونی میں تقریباً 5 ہزار غریب مسلمان رہائش پذیر ہیں، جنہیں پانی کی فراہمی بند ہونے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے تقریباً ایک کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے، جہاں سے ملنے والا پانی بھی آلودہ ہوتا ہے۔
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے انتخابی انتقام کے تحت مسلم آبادی کو پانی کی فراہمی سے محروم کیا۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق میونسپلٹی نے مرمت کا جواز پیش کرتے ہوئے رات کے وقت پانی کی سپلائی منقطع کردی، تاہم ملحقہ ہندو آبادی میں پانی کی فراہمی بدستور جاری ہے۔
رپورٹ میں ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2022 میں مدھیہ پردیش میں پرتشدد واقعات کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں میں بنیادی میونسپل کنکشن منقطع کردیے گئے تھے۔ اسی سال نئی دہلی میں سیاسی کشیدگی کے بعد مسلم آبادی والے علاقوں میں بجلی، پانی اور صفائی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی معطل کیے جانے کے الزامات سامنے آئے تھے۔
بی بی سی سے منسوب رپورٹ کے مطابق جیوتی نگر کالونی میں تقریباً 5 ہزار غریب مسلمان رہائش پذیر ہیں، جنہیں پانی کی فراہمی بند ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے تقریباً ایک کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے، جہاں سے ملنے والا پانی بھی آلودہ ہوتا ہے۔
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت نے انتخابی انتقام کے تحت مسلم آبادی کو پانی کی فراہمی سے محروم کیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق میونسپلٹی نے مرمت کا جواز پیش کرتے ہوئے رات کے وقت پانی کی سپلائی منقطع کردی، تاہم ملحقہ ہندو آبادی میں پانی کی فراہمی جاری ہے۔
رپورٹ میں اس معاملے کے پس منظر میں بی جے پی کے نو منتخب رکن اسمبلی رتیش تیواری کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے 13 مئی کو اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بستی کے مسلمانوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا، اس لیے وہ ان کا کوئی کام نہیں کریں گے اور نہ ہی انہیں سرکاری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
رتیش تیواری نے دعویٰ کیا تھا کہ 74 برس میں وہ اس علاقے کے پہلے رکن اسمبلی ہیں جنہیں کسی مسلمان نے ووٹ نہیں دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے انہیں ووٹ دیا ہے، وہ ان کے جواب دہ ہیں، جبکہ ووٹ نہ دینے والوں کے لیے وہ آئندہ پانچ سال میں کوئی کام نہیں کریں گے اور نہ ہی انہیں کوئی سرٹیفکیٹ جاری کریں گے۔
بی جے پی کے رکن اسمبلی نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا نعرہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ وہ تسلیم کرتے ہیں، تاہم ان کے بقول اس انتخاب میں ایک اور بات بھی شامل کی گئی کہ ’’سب کا حساب‘‘ ہونا چاہیے۔
رپورٹ میں ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2022 میں مدھیہ پردیش میں پرتشدد واقعات کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں میں میونسپل کنکشن منقطع کیے گئے تھے۔
اسی سال نئی دہلی میں سیاسی کشیدگی کے بعد مسلم آبادی والے علاقوں میں بجلی، پانی اور صفائی سمیت بنیادی سہولتیں معطل کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے تھے۔