میر رضا کیس: وزیراعلیٰ سندھ کی کابینہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کی ہدایت
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کیس سے متعلق کابینہ کی سب کمیٹی کی تمام سفارشات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
بدھ کے روز وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے میر رضا کیس کے حوالے سے قائم کابینہ کی سب کمیٹی کے اراکین نے ملاقات کی اور جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر ہونے والے پہلے جائزہ اجلاس اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔
کابینہ کی سب کمیٹی میں وزیر بلدیات سندھ سید ناصر شاہ، وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار، وزیر برائے محنت و افرادی قوت سعید غنی اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو شامل ہیں۔
کمیٹی اراکین نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ اور سفارشات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو رپورٹ پر ہونے والے پہلے جائزہ اجلاس اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔
کمیٹی اراکین نے بریفنگ میں بتایا کہ پہلے جائزہ اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر ابتدائی سفارشات بھی مرتب کرلی گئی ہیں جب کہ ملاقات کے دوران کمیٹی اراکین نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر مرتب کردہ ابتدائی سفارشات وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کردیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کمیٹی کی تمام سفارشات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز میر رضا علی کی موت کے تعین کے لیے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں تفتیش کے دوران پولیس کی سنگین غفلت، کئی افسران کے خلاف کارروائی سمیت دیگر اہم سفارشات کی ہدایت کی گئی تھی۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں موت کے خودکشی کے تاثر کو میڈیکل بورڈ کی روشنی میں پیچھے سے لگنے والی گولی اور زخم قرار دیا جبکہ پولیس کو سفارش کی گئی تھی کہ اُن کی کارکردگی کی وجہ سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔
عدالتی کمیشن نے متاثرہ خاندان کی درخواست پر کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کی سفارش کی ہے۔
مجوزہ جے آئی ٹی میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، سندھ رینجرز، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سینئر نمائندے شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عوامی اعتماد کی بحالی اور قیاس آرائیوں کے خاتمے کے لیے جے آئی ٹی کا قیام ضروری ہے۔ مختلف اداروں کی نمائندگی سے تحقیقات کو جامع اور غیر جانب دار بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کیس میں پولیس کی جانب سے ابتدائی 10 روز کی تفتیش میں شامل افسران کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی بھی سفارش کی ہے، جس کی سربراہی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ یہ کمیٹی اس بات کا تعین کرے کہ آیا متعلقہ پولیس افسران نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 201، 166(2) یا 218 کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔ کمیشن نے ذمہ دار پائے جانے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری کارروائی کی بھی سفارش کی ہے۔
کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ اس مقدمے کے اہم مادی شواہد متاثر ہوچکے ہیں، اس لیے کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر جامع تحقیقات ضروری ہیں۔
میر رضا علی کون تھے اور واقعہ کب پیش آیا؟
یاد رہے کہ کراچی کا 25 سالہ نوجوان تاجر میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی جب کہ ان کے جسم پر گولی لگنے کا زخم موجود تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے ابتدائی طور پر خودکشی کے امکان کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا تاہم میر رضا کے اہل خانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اغوا کرکے تشدد کے بعد قتل کیا گیا۔ کیس میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دستیاب شواہد سے متعلق سوالات سامنے آنے پر معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔
میر رضا کے والد نے عدالت سے رجوع کرکے لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کی اجازت طلب کی تھی۔ 6 اگست کو کراچی کی عدالت نے لاش قبر سے نکالنے اور میڈیکو لیگل بورڈ کے ذریعے دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دیا۔ بعد ازاں طبی بورڈ کی تشکیل اور اس کے ارکان میں تبدیلی پر بھی تنازع سامنے آیا، جس کے باعث کارروائی کچھ وقت کے لیے مؤخر ہوئی۔
اہل خانہ کے مطالبے پر اصل میڈیکل بورڈ بحال کیا گیا اور 8 اگست کو لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ اس کے بعد پولیس کی تفتیشی ٹیم بھی تبدیل کی گئی، قتل کی تفتیش زمان ٹاؤن پولیس اسٹیشن منتقل ہوئی اور مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔
میر رضا کے اہل خانہ نے تحقیقات کے طریقہ کار پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے سندھ حکومت سے براہ راست مداخلت اور پولیس کی سابقہ تفتیش کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت سندھ نے اگست میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے عدالتی کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ قتل کی تحقیقات غیر جانب دارانہ اور قانون کے مطابق ہوئیں یا نہیں۔
کمیشن کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ واقعے کے حالات، قتل کے ممکنہ محرکات، پولیس اور میڈیکو لیگل حکام کے کردار، شواہد میں ممکنہ غفلت یا ردوبدل اور تفتیش میں سامنے آنے والی خامیوں کا جائزہ لے۔ اسے مزید تحقیقات، فرانزک تجزیے اور متعلقہ حکام کے خلاف قانونی یا محکمانہ کارروائی کی سفارشات دینے کا اختیار بھی حاصل تھا۔
میر رضا کے خاندان نے عدالتی کمیشن کے قیام پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اہل خانہ کا مؤقف تھا کہ قتل کی تحقیقات ایسے افسران پر مشتمل ٹیم سے کرائی جائیں جن کا پہلے سے اس کیس سے تعلق نہ رہا ہو۔
خاندان نے سندھ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تاہم 2 ستمبر کو عدالت نے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جے آئی ٹی تشکیل دینا حکومت کا اختیار ہے۔ عدالت نے جاری فوجداری تحقیقات میں مداخلت یا ان کی نگرانی سے بھی انکار کیا۔
عدالتی کمیشن نے کارروائی کے دوران پولیس افسران، میڈیکو لیگل حکام، اہل خانہ اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات قلم بند کیے۔ سماعتوں میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ، جائے وقوعہ کی نگرانی، سی سی ٹی وی فوٹیج اور تفتیشی ریکارڈ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔
اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کمیشن نے اپنی کارروائی مکمل کرلی، جس کے بعد 15 اکتوبر کو رپورٹ سربمہر لفافے میں سندھ حکومت کے حوالے کردی گئی۔ رپورٹ میں کمیشن کے نتائج اور سفارشات کے علاوہ گواہوں کے بیانات اور متعلقہ دستاویزات بھی شامل ہیں۔
بعدازاں سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کی جب کہ وزیراعلیٰ نے رپورٹ متاثرہ خاندان کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
ترجمان سندھ حکومت کے مطابق میر رضا کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سات لفافوں میں کابینہ کے سامنے پیش کی گئی، جس کے بعد کابینہ نے اس رپورٹ کو آج ہی پبلک کرنے کی منظوری دی۔
صوبائی کابینہ نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے 4 رکنی ذیلی کمیٹی بھی قائم کی ہے، جس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، صوبائی وزیر سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ شامل ہیں۔