وفاق نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے فنڈز کی یقین دہانی کرائی ہے: فیصل کریم کنڈی
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے اور ترقیاتی اقدامات کے لیے وفاقی حکومت نے 160 ارب روپے کے فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ مزید وسائل کی ضرورت پڑنے پر اضافی فنڈز دینے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن قائم ہوگا تو سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، کرپشن اور امن و امان کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ گزشتہ روز وزیراعظم کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے میں سیکیورٹی کی صورتِ حال اور ترقیاتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا کے حوالے سے مختلف مطالبات بھی وزیراعظم کے سامنے رکھے گئے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 سال کے دوران خیبرپختونخوا کو مشکل حالات کا سامنا رہا، تاہم اب صوبے کو مضبوط بنانے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں امن و ترقی ہماری ترجیح ہے اور مقصد ایک ایسا خیبرپختونخوا بنانا ہے جو بدلتا، نکھرتا اور مضبوط ہوتا دکھائی دے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ امن قائم ہونے سے سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں کے مواقع بڑھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرپشن کی روک تھام اور امن و امان کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، جبکہ تجاوزات کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنائی جا سکے۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کو 160 ارب روپے کے فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وفاق کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر صوبے کو مزید فنڈز اور وسائل درکار ہوئے تو وہ بھی فراہم کیے جائیں گے۔
اُدھر گورنر خیبرپختونخوا کے ہمراہ موجود ثمر ہارون بلور نے بھی وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ انہوں نے کرک میں پیش آنے والے واقعے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ پولیس اور سی سی ڈی کو مضبوط بنایا جائے گا۔
ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل ہماری بقا کی جنگ ہے، اس لیے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو مؤثر اور مضبوط بنانا ضروری ہے۔
ادھر محمود جان نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے دہشت گردی کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ان کے مطابق امن و امان کی بہتری کے ساتھ ترقیاتی اقدامات بھی اہم ہیں، تاکہ خیبرپختونخوا میں استحکام اور خوشحالی کی راہ ہموار کی جا سکے۔