اسرائیل کو فی الحال نہ صرف غزہ اور مغربی کنارہ فلسطینیوں سے پاک چاہیے بلکہ جنوبی لبنان اور جنوبی شام کے بھی کچھ علاقے چاہیں تاکہ اس کے نہ ختم ہونے والے احساسِ عدم تحفظ کی بھوک کچھ عرصے کے لیے کم ہو سکے۔چنانچہ وہ بھلا کیوں ایسی سازگار فضا چاہے گا جس کے نتیجے میں پرامن بقاِ باہمی کے اصول پر امن قائم ہو سکے ۔
گزشتہ دو برس میں لاکھوں لوگ دنیا بھر میں سیکڑوں بار سڑکوں پر آئے۔کئی ہزار کلوگرام کاغذ قرار دادوں ، یادداشتوں اور مطالبات کی شکل میں ضایع ہو گیا۔اسرائیل کو ہر مرحلے میں بارہا سیاسی و سفارتی خفت بھی اٹھانا پڑی۔اس کی یہودی مظلومیت کی تین ہزار سالہ کہانی کا اثر بھی کسی حد تک دنیا کے ذہنوں سے زائل ہو گیا۔مگر ہوا کیا ؟ زمینی نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔
تو پھر ایسی کونسی قوت یا راہ ہے جس کے ذریعے اسرائیل کو ایک نارمل ریاست کی طرح رہنا سکھایا جا سکے۔ایک راستہ اب بھی ہے۔ ترقی یافتہ صنعتی یورپ کے مزدوروں کی طاقت ہوا کا رخ بدل سکتی ہے۔مگر کیسے ؟
امریکا کے بعد اسرائیل کا سب سے بڑا اقتصادی ساجھے دار یورپ ہے۔اسپین اور سلووینیا کی حکومتوں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کے خلاف جن پابندیوں کا اعلان کیا ان پر حقیقی انداز میں عمل بھی کیا۔مگر آئرلینڈ بظاہر ایک جانب غزہ میں نسل کشی کا پرزور مخالف ہے اور دوسری جانب دو ہزار چوبیس میں اسرائیلی مصنوعات درآمد کرنے والا تیسرا بڑا یورپی ملک بھی تھا۔
ایسی کئی یورپی حکومتیں ہیں جو تیسری دنیا کو تو امن و انصاف اور انسانی حقوق کا بھاشن دینے میں آگے آگے ہیں مگر جب اس بھاشن پر خود عمل کرنے کا معاملہ ہو تو وہ تاویلات کا موٹا کمبل اوڑھ لیتی ہیں۔جب تک ٹرانسپورٹ اور بندرگاہوں سے وابستہ گودی ورکرز کمر بستہ نہیں ہوں گے اسرائیل کے بارے میں یورپی حکومتوں کا دوغلاپن بدلنا مشکل ہے۔
لاکھوں لوگوں کا سڑک پر احتجاج حکومتوں پر وقتی اخلاقی دباؤ تو ضرور ڈالتا ہے مگر اس سے بنیادی ریاستی پالیسی شائد ہی تبدیل ہو سکے۔مزدور یونینوں میں البتہ یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ انڈسٹریل ایکشن ، کام میں سست رفتاری یا مقامی و قومی سطح پر بائیکاٹ مہم کے ذریعے اپنی اپنی حکومتوں کو دن میں تارے دکھا سکیں۔
اکثر حکومتیں اس طرح کے جامع انڈسٹریل ایکشنز سے یوں بھی گھبراتی ہیں کہ پیداوار یا درآمد و برآمد میں پیدا ہونے والے خلل سے صرف سرکاری پالیسی پر ہی دباؤ نہیں پڑتا بلکہ مقامی صارفین کی روزمرہ زندگی اور رسد بھی متاثر ہوتی ہے اور پھر متاثر ہونے والوں کا اپنی اپنی حکومتوں پر دباؤ مزید بڑھتا ہے۔یعنی کوئی بھی جمہوری یا نیم جمہوری حکومت اپنے ووٹروں کو کسی تیسرے ملک کے لیے ناراض کرنا زیادہ دیر افورڈ نہیں کر سکتی۔
یہ محض کتابی نظریہ نہیں بلکہ ماضی میں اس عمل سے ٹھوس نتائج سامنے آئے۔مثلاً نسل پرست جنوبی افریقہ کی گوری حکومت کے دور کو ہی دیکھ لیں۔انیس سو ساٹھ کی دہائی میں اقوامِ متحدہ نے جنوبی افریقہ میں اپارتھائیڈ پالیسیوں کے خلاف جنوبی افریقہ کی رکنیت معطل کر دی اور ’’ بائیکاٹ جنوبی افریقہ‘‘ کی تحریک میں جان پڑتی چلی گئی۔
سفارتی پابندیوں اور اقتصادی مقاطع کے باوجود نسل پرست گوری اقلیتی حکومت کی امتیازی پالیسی میں فوری طور پر بظاہر کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔بدلاؤ تب شروع ہوا جب نومبر انیس سو چوراسی میں آئرلینڈ کی گودی مزدور یونینوں نے جنوبی افریقہ کا مال جہازوں سے اتارنے چڑھانے سے انکار کر دیا۔آئرش مزدوروں کی دیکھا دیکھی ہزاروں میل پرے سان فرانسکو کے گودی مزدوروں نے بھی جنوبی افریقہ سے آنے اور جانے والے سامان کا بائیکاٹ کر دیا۔
اس طرح کے بائیکاٹ کے اثرات کارخانوں اور خدمات کے شعبوں کی مزدور یونینوں پر بھی پڑنے لگے اور کئی مغربی ممالک پر دباؤ اس قدر بڑھ گیا کہ انھیں بھی بادلِ نخواستہ جنوبی افریقہ سے مالیاتی ربط ضبط منقطع کرنے کی پالیسی اپنانے پر عملاً مجبور ہونا پڑا۔
گزشتہ برس یورپی یونین کو کل اسرائیلی برآمدات کا انتیس فیصد پہنچا۔جب کہ اسرائیل نے یورپی یونین سے اپنی ضرورت کا تقریباً پینتیس فیصد سامان خریدا۔ اسلحے اور دفاعی آلات کی اسرائیل کو فراہمی الگ ہے۔
یوں سمجھ لیں کہ یورپ اسرائیل سے اپنی مجموعی عالمی درآمدات کا صفر اعشاریہ آٹھ فیصد خریدتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر یورپ کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے کارکن اسرائیل سے آنے والا سامان ان لوڈ یا اپ لوڈ کرنے سے انکار کردیں تو یورپ کے عام آدمی پر اس کا کوئی خاص معاشی اثر نہیں پڑے گا البتہ اسرائیلی برآمدات کو اچھا خاصا دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی مجموعی تجارت کا حجم لگ بھگ پچپن ارب ڈالر سالانہ ہے مگر زیادہ تر سامان یورپی بندرگاہوں سے ہوتا ہوا امریکا یا امریکا سے اسرائیل پہنچتا ہے۔انڈسٹریل ایکشن کی صورت میں ایک تو اسرائیل کے امریکا جانے والے کارگو کو یورپی بندرگاہوں کی سہولت نہیں ملے گی اور براہِ راست سامان امریکا بھیجنے کی لاگت میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ اس بحران کا تھوڑا بہت اثر نسل پرست اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکا پر ضرور پڑے گا۔
اور کچھ نہیں تو یورپی ٹریڈ یونینیں کم ازکم اس سامان کا بائیکاٹ ضرور کروا سکتی ہیں جو مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی آبادکار بستیوں میں تیار ہو تا ہے۔اس کے سبب چھوٹے یورپی تاجروں کے لیے اسرائیلی مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ وہ اسرائیل کی محبت میں کاروباری نقصان سے بچنے کے لیے اسرائیلی سامان کا متبادل تلاش کرنے میں لگ سکتے ہیں۔
یہ کوئی غیر قانونی حرکت نہیں بللکہ ایسے انڈسٹریل ایکشنز کی بین الاقوامی قوانین اور کنونشنز بھی حمائیت کرتے ہیں۔ستمبر میں اطالوی ورکرز نے اسرائیل کے بائیکاٹ کے لیے ملک گیر ہڑتال کی اور کام پر خاصا برا اثر پڑا۔ اس کے نتیجے میں اطالوی حکومت کے اسرائیل نواز رویے میں خاصی لچک دیکھی گئی۔لیکن دباؤ مسلسل اور کئی اطراف سے نہ ہو تو سرکاری پالیسیاں کچھ ہی عرصے بعد پرانی ڈگر پر واپس آ سکتی ہیں۔
سپلائی چین بار بار ڈسٹرب ہونے سے اسرائیلی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی بے لگامی میں زیادہ نہیں تو تھوڑی بہت تبدیلی ضرور آ سکتی ہے اور اس رویے میں ایک فیصد تبدیلی بھی فلسطینیوں کو سکھ کے دس سانس ضرور فراہم کرسکتی ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)