بھارت: ہزاروں افراد چیف الیکشن کمشنر کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہزاروں افراد نے انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ احتجاج کانگریس پارٹی کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی قیادت میں کیا گیا، جس میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں، طلبہ تنظیموں اور شہریوں نے شرکت کی۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں میں کی جانے والی تبدیلیوں سے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے نام نکالنے کے عمل میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو زیادہ متاثر کیا گیا ہے۔
احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے نئی دہلی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے مختلف سڑکوں پر متبادل راستوں کا اعلان کیا تھا۔
سینکڑوں سیکیورٹی اہلکار ڈنڈوں اور حفاظتی ڈھالوں کے ساتھ تاریخی رام لیلا میدان کے اطراف تعینات تھے، جبکہ ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔
راہول گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماؤں نے ایک کھلی گاڑی میں سوار ہوکر احتجاجی مارچ کی قیادت کی۔ بعد ازاں رام لیلا میدان میں خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انہیں عہدے سے ہٹانا ملک کو دوبارہ درست راستے پر لانے کی جانب پہلا قدم ہوگا۔
راہول گاندھی نے ووٹر لسٹوں سے نام نکالنے کے عمل کو شہریوں کے حق رائے دہی اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہر بھارتی شہری کی آواز چوری کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس عمل کو ملک کے ساتھ دھوکا دہی اور غداری قرار دیا۔
احتجاج میں شریک کانگریس کی طلبہ تنظیم کی رکن رینا ماہتو نے دعویٰ کیا کہ ان کے خاندان کے چار افراد کے نام ووٹر لسٹ سے اس غلط اندراج کی بنیاد پر نکال دیے گئے کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہوچکے ہیں۔
رینا ماہتو کے مطابق ان کا خاندان کئی برس سے ریاست چھتیس گڑھ کے علاقے جگدل پور میں رہائش پذیر ہے، لیکن اچانک سرکاری ریکارڈ میں انہیں اپنے گھر سے منتقل شدہ ظاہر کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر جواب دہی ہونی چاہیے اور وہ اسی مقصد کے لیے احتجاج میں شریک ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کے عمل کے دوران 13 کروڑ سے زائد افراد کے نام نکالے گئے ہیں، جو جاپان کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتی گروہوں کے ووٹرز کو غیر متناسب طور پر متاثر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں میں نظرثانی کا مقصد جعلی، دہرے اور نااہل ووٹرز کے نام نکالنا اور فہرستوں کو درست بنانا ہے۔ کمیشن نے کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن اہل ووٹرز کے نام غلطی سے نکالے گئے ہیں، وہ دوبارہ اپنا اندراج کراسکتے ہیں۔
حکمران جماعت بی جے پی نے بھی اپوزیشن کے احتجاج پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخالف جماعتیں جائز انتخابی عمل پر سوالات اٹھا کر جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
احتجاج میں شریک ایک شہری دنیش سنگھ نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر مظاہرے میں آئے ہیں۔ ان کے بقول وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں بلکہ ایک مقصد کے لیے احتجاج کررہے ہیں تاکہ ان کے بچے یاد رکھیں کہ ان کے والدین نے ان کے بہتر مستقبل کے لیے آواز اٹھائی تھی۔
تاہم بھارتی وزیر صحت جگت پرکاش نڈا نے احتجاج کو منظم ڈراما قرار دیتے ہوئے کہا کہ رام لیلا میدان میں ہونے والا مظاہرہ جمہوریت کے احترام کے لیے نہیں بلکہ ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔
رائٹرز کے مطابق ستمبر کے آخر سے بھارت میں انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کے خلاف تقریباً روزانہ احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ ان مظاہروں میں اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ طلبہ تنظیمیں اور نوجوانوں کی قیادت میں سرگرم گروپ بھی شریک ہیں اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
یہ احتجاج اس وقت شروع ہوئے جب بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کے دو نائبین نے ووٹر لسٹوں میں تبدیلی، ووٹرز کے اندراج کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل نظام سے متعلق اندرونی طور پر کئی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد ان مظاہروں اور اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی حمایت کو ان کی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم ان کی حکومت مستحکم ہے اور بھارت میں اگلے عام انتخابات 2029 میں ہوں گے۔