کھیل 

آئی پی ایل میں شرکت کی خبریں، محمد عامر کا بیان سامنے آگیا

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں شرکت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل میں رجسٹریشن کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ خبریں تیزی سے پھیل رہی تھیں کہ برطانیہ کی شہریت حاصل کرنے کے بعد محمد عامر اب آئی پی ایل میں بطور برطانوی شہری شرکت کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارتی لیگ میں پاکستانی شہریوں اور کھلاڑیوں کے کھیلنے پر پابندی ہے، لیکن ماضی میں سابق پاکستانی آل راؤنڈر اظہر محمود نے برطانوی پاسپورٹ کی بنیاد پر اس لیگ میں شرکت کی تھی۔ اسی وجہ سے محمد عامر کی برطانوی شہریت کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شاید وہ بھی اسی راستے پر چلیں گے۔

ان افواہوں کی شروعات اس وقت ہوئی جب محمد عامر نے حال ہی میں افغانستان پریمیئر لیگ میں بطور برطانوی شہری اپنا نام درج کرایا۔ جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں کہ وہ برطانوی شہریت کی بنیاد پر آئی پی ایل میں بھی حصہ لینے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

ان خبروں کے بعد محمد عامر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئی پی ایل سے متعلق خبروں کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان میں کوئی صداقت نہیں۔

انہوں نے لکھا کہ آئی پی ایل کے حوالے سے سامنے آنے والی خبریں درست نہیں ہیں۔

محمد عامر نے رواں برس برطانوی شہریت حاصل کی تھی۔ انہوں نے اپنی اہلیہ نرجس خان کے ذریعے برطانوی شہریت حاصل کی، جس کے بعد وہ اب انگلینڈ کے مقامی ٹورنامنٹس جیسے دی ہنڈرڈ اور کاؤنٹی کرکٹ میں بطور مقامی کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔

اس سے قبل وہ غیر ملکی کھلاڑی کی حیثیت سے ٹورنامنٹ کے ڈرافٹ میں شامل ہوئے تھے، تاہم انہیں کسی ٹیم نے منتخب نہیں کیا تھا۔

عامر نے خود بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اب وہ پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیل سکتے کیونکہ مقامی برطانوی کھلاڑی کے طور پر معاہدہ کرنے کا مطلب کسی دوسرے ملک کی نمائندگی ختم کرنا ہے۔

محمد عامر نے 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران پاکستان کی جانب سے 36 ٹیسٹ، 61 ون ڈے اور 62 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلے۔

بائیں ہاتھ سے تیز بولنگ کرنے والے محمد عامر کو اپنے دور کے نمایاں فاسٹ بولرز میں شمار کیا جاتا ہے اور ریٹائرمنٹ کے باوجود وہ دنیا کی مختلف فرنچائز کرکٹ لیگز میں کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔

Related posts