بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدر امین الاسلام نے لاہور میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی سے ملاقات کی اور ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت میں نہ کھیلنے کے معاملے پر بنگلادیش کی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
اتوار کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ امین الاسلام لاہور کے قذافی اسٹیڈیم پہنچے تو چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے ان کا خیر مقدم کیا۔
اس موقع پر محسن نقوی سے امین الاسلام نے ملاقات کی، جس میں کرکٹ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ صدر بنگلادیشی کرکٹ بورڈ نے بنگلادیش کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر اور ایڈوائزر ٹو چیئرمین پی سی بی عامر میر بھی موجود تھے۔
بعدازاں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ بھی قذافی اسٹیڈیم پہنچ گئے، جہاں ان کی بھی چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ملاقات ہوئی ہے۔
ملاقات میں صدر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ امین الاسلام، سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر، ایڈوائزر ٹو چیئرمین پی سی بی عامر میر اور سی او او پی سی بی سمیر احمد سید بھی شریک ہیں۔ ملاقات میں پاک بھارت میچ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی وفد اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ اجلاس کے بعد آج ہی واپس چلے جائیں گے۔
واضح رہے کہ یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا کہ جب بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کے دباؤ میں آکر انہیں اسکواڈ سے ریلیز کردیا تھا، جس کے بعد بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت میں جاری ٹی 20 ورلڈ کپ میں اپنے کھلاڑیوں کے لیے مقام تبدیل کرنے کی درخواست آئی سی سی سے کی گئی تھی۔
بنگلہ دیش نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ بنگلہ دیش کے تمام میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں جس پر آئی سی سی نے بی سی بی کی درخواست مسترد کردی تھی اور بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کرکے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا تھا۔
جوابی اقدام کے طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کی بھرپور حمایت کی تھی اور بنگلہ دیش کا ساتھ دیتے ہوئے ٹی 20 ورلڈ کپ میں 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے باعث آئی سی سی کو بھاری مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بعد ازاں یکم فروری کو پاکستانی حکومت نے قومی ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی لیکن بھارت کے خلاف 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا گیا۔