آئی ایم ایف جائزہ مشن بجٹ سازی پر حتمی مشاورت کے لیے آئندہ ماہ پاکستان آئے گا، وفد کے ساتھ اگلے مالی سال کے لیے مجوزہ اہداف پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
آئی ایم ایف کو آن بورڈ لے کر اگلے مالی سال کے لیے مجموعی بجٹ کا حجم، جی ڈی پی کا ہدف، ٹیکس وصولیوں کا ہدف، بجٹ خسارے، پی ایس ڈی پی، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح اور ڈیبٹ سروسنگ سمیت دیگر اہداف فائنل کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں غیر ضروری ٹیکس چھوٹ بھی مزید ختم کی جائے گی اور تمام اہداف آئی ایم ایف کے ساتھ طے کردہ بینچ مارکس کے مطابق رکھے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف پی سی سی آئی اور ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، تاجر تنظیموں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے موصول ہونے والی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان تجاویز کی روشنی میں اگلے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ کے مسودے کی تیاری پرکام جاری ہے۔
تجاویز کے تحت حکومت نے آئی ایم ایف کو نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10 فیصد تک فنڈز مختص کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی مسائل کے باعث آئندہ مالی سال بھی ترقیاتی بجٹ محدود رکھنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے پی ایس ڈی پی تین ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف وزارتوں اور ڈویژنز نے 300 سے زائد نئے منصوبوں کے لیے اضافی فنڈز مانگے ہیں، ان منصوبوں کی مجموعی لاگت سات ہزار ارب روپے ہے۔
اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح قرار دی گئی ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ پی ایس ڈی پی کے تحت جو فنڈز مختص کیے جائیں انکے زیادہ سے زیادہ اور مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
رواں مالی سال 2025-26 میں بھی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے تھے، 1100 ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی لاگت 13 ہزار ارب روپے سے زائد ہے مگر جولائی سے اپریل تک ترقیاتی منصوبوں پر 450 ارب روپے سے زائد خرچ ہوئے ہیں اور پی ایس ڈی پی منصوبوں کا تھرو فارورڈ تقریباً ایک ہزار ارب روپے ہے۔