لاہور پولیس کی حراست میں دو خواتین کی موت کا مقدمہ، مدعی کا مشکوک ریکارڈ سامنے آ گیا
لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں پولیس حراست کے دوران نند بھابھی کی پراسرار ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کے کرمنل ریکارڈ آفس (سی آر او) سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں خواتین کے خلاف چوری اور فراڈ کا مقدمہ درج کرانے والا ذیشان لطیف پہلے بھی متعدد مقدمات میں مدعی، گواہ اور ملزمان کا ضمانتی رہ چکا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ذیشان لطیف اب تک 3 مختلف مقدمات میں مدعی بن چکا ہے۔ ان میں ایک مقدمہ گارڈن ٹاؤن جبکہ 2 ٹاؤن شپ میں درج ہیں۔ ان مقدمات میں چوری، فراڈ، چیک ڈس آنر اور چھینا جھپٹی کے الزامات شامل ہیں۔
ریکارڈ کے مطابق ذیشان لطیف 3 مقدمات میں گواہ بھی رہ چکا ہے، جبکہ ٹاؤن شپ اور قائداعظم انڈسٹریل ایریا میں درج فراڈ کے 2 مقدمات میں ملزمان کا ضمانتی بھی بنا۔ پولیس ریکارڈ سامنے آنے کے بعد کیس کے مدعی کے کردار سے متعلق مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔
دوسری جانب دونوں خواتین کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی حکام کو موصول ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ساڑھے 17 سالہ آمنہ اور 22 سالہ انمول کے جسم پر بظاہر تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا، جبکہ موت کی وجہ دل کا دورہ قرار دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ نند بھابھی آمنہ اور انمول کو 4 اگست کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 379 اور 420 کے تحت چوری اور دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں خواتین کی اسی روز تھانے میں موت واقع ہوگئی تھی۔
مقدمے کے مدعی ذیشان لطیف نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ 2 خواتین گلی میں بھیک مانگ رہی تھیں اور ان کے گھر میں داخل ہوکر پانی مانگا۔ مدعی کے مطابق اس کی بہن نے انہیں پانی دیا تو خواتین نے کہا کہ وہ دم بھی کرتی ہیں، جس کے بعد مبینہ طور پر دھوکے سے سونے کی بالیاں اور 5 ہزار روپے لے لیے گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق ذیشان لطیف جب گھر پہنچا تو سونے کی بالیاں واپس مل گئیں، تاہم رقم نہ ملنے پر خواتین نے مبینہ طور پر محلے میں شور مچایا اور اپنے کپڑے پھاڑ لیے۔ بعد ازاں ریسکیو 15 پر کال کرکے دونوں خواتین کو پولیس کے حوالے کردیا گیا۔
خواتین کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد اہل خانہ اور پولیس کے مؤقف میں واضح تضاد سامنے آیا۔ انمول کے شوہر اور آمنہ کے بھائی ثقلین نے الزام عائد کیا کہ میت دیکھنے پر ان کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے جبکہ چہرے اور کمر پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔
دوسری جانب آمنہ کی والدہ اور انمول کی ساس زینب بی بی نے بتایا کہ انہوں نے تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی ہے، جس میں دونوں خواتین بظاہر صحت مند حالت میں نظر آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خواتین نشے میں ہوتیں تو وہ پولیس اہلکار سے اس طرح بات نہ کرتیں جیسا فوٹیج میں دکھائی دیتا ہے۔
ادھر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران سمیت لاہور پولیس کے اعلیٰ حکام نے تشدد کے الزامات کی تردید کی تھی۔ پولیس حکام کے مطابق دونوں خواتین منشیات کی عادی تھیں اور شبہ ہے کہ ان کی موت منشیات کی زیادہ مقدار استعمال کرنے کے باعث ہوئی۔
کیس کی سنگینی کے پیش نظر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج لاہور کے احکامات پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے عدالتی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ عدالتی تحقیقات کی رپورٹ 30 روز میں پیش کی جائے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر جوڈیشل انکوائری یا فرانزک رپورٹس میں پولیس تشدد ثابت ہوا تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب متوفی خواتین کے اہل خانہ نے شکایت کی ہے کہ انہیں تاحال پوسٹ مارٹم رپورٹ کی باقاعدہ نقل فراہم نہیں کی گئی۔