ایران جلد از جلد معاہدہ چاہتا ہے، حتمی فیصلہ میں کروں گا: ٹرمپ کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جلد از جلد اور شدت کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کرے گا یا نہیں، اس کا حتمی فیصلہ وہ خود کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران ایک ناکام ہوتی ہوئی ریاست ہے اور وہ امریکا کے ساتھ فوری طور پر معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے حتمی فیصلہ وہ خود کریں گے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا تھا کہ دنیا کے دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے امریکا کی جانب سے کیے جانے والے دفاعی اقدامات کا معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایرانی قوم کو دھونس اور دباؤ کے ذریعے جھکایا نہیں جا سکتا اور ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد ایرانی معاشرے کو اندرونی طور پر تباہ کرنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بیرونِ ملک موجود کچھ ایرانی عناصر دشمن کے ساتھ مل کر ملک کے اندر عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خبرایجنسی کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی اور سخت پابندیوں کے باعث ایران کی تیل برآمدات متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ غیر ملکی کرنسی تک رسائی محدود ہونے سے ملکی معیشت پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
ادھر ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے اپنی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کی قانونی، ادارہ جاتی اور تیکنیکی زاویوں سے تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کو کٹہرے میں لایا جائے۔
دوسری جانب ایرانی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سربراہ محمد اسلامی کو آئی اے ای اے کے ویانا اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا ہے، جس پر تہران نے شدید احتجاج کیا ہے۔
ایرانی حکام نے محمد اسلامی کو اجلاس میں شرکت سے روکنے کے اقدام کو امریکی غارت گری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی عہدیدار کو اجلاس میں شرکت سے روکنا آئی اے ای اے کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ محمد اسلامی کو آسٹریا کا ویزا نہ دینا ایران کا گلا گھونٹنے کی کوشش ہے۔ ان کے بقول ایرانی عہدیدار کو ویزا جاری نہ کرکے ایران کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران ایک جانب واشنگٹن کی طرف سے ممکنہ معاہدے اور آبنائے ہرمز کے تحفظ سے متعلق سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب تہران نے دباؤ کے باوجود ہتھیار نہ ڈالنے اور اپنی جوہری تنصیبات پر حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔