تحریکِ انصاف کے 5 اراکین پارلیمنٹ اسلام آباد کے ریڈزون سے گرفتار

اسلام آباد کے ریڈ زون سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پانچ اراکین پارلیمنٹ کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جن میں سینیٹر سیف اللہ نیازی، ثناء اللہ مستی خیل، جمال احسن خان، داوڑ خان اور محمد غوث شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو مجوزہ احتجاج سے پہلے ملک کی سیاسی فضا میں شدید گرمی اور تناؤ دیکھنے میں آرہا ہے، جہاں ایک طرف اپوزیشن جماعت کے رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت نے بھی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے حکم نامے کے تحت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو 3 ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جہاں ان پر عوامی تحفظ کو نقصان پہنچانے اور کارکنوں کو اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی شکیل خان کے گارڈ کی مبینہ فائرنگ سے لیویز کے دو اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ واقعے کے وقت رکن اسمبلی کی موجودگی اور فائرنگ کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد حکام نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی اور گرفتاریوں کا عمل شروع کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

سیاسی محاذ پر تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر کے ایک بیان نے بھی نئی بحث چھپیر دی ہے۔ مردان میں ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے جنید اکبر نے کہا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، لاشیں گریں گی تو نئے لوگ آ جائیں گے، ہم 27 ستمبر کو اسلام آباد جائیں گے اور داخلے کے لیے ایک راستہ استعمال نہیں کریں گے بلکہ موٹر وے، جی ڈی روڈ اور مارگلہ کے پہاڑوں سے بھی اتریں گے۔

جنید اکبر نے وفاقی دارالحکومت کو سومناتھ بنانے کا اعلان کیا اور اپنی تند و تیز تقریر میں احتجاج کو ہر صورت کامیاب بنانے کا عزم ظاہر کیا۔

اس بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد سومناتھ ہے اور نہ یہ شخص محمود غزنوی ہے، اسلام آباد اسلام کا قلعہ اور وفاق کی علامت ہے اور حکومت پوری قوت سے دارالحکومت کا دفاع کرے گی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں روز بہنے والے خون کا حوالہ دیتے ہوئے کیا طالبان ان کے اتحادی ہیں جو مزید انتشار پھیلا رہے ہیں اور کیا 27 ستمبر کو جس حملے کی بات کی جا رہی ہے اس میں افغان شہری بھی شامل ہوں گے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی کہا کہ اسلام آباد کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں اور دارالحکومت کو میدانِ تصادم بنانے کے عزائم برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ سڑکوں کی بندش پر عدالتی فیصلہ موجود ہے اور کوئی پرتشدد جتھا اسلام آباد نہیں آئے گا۔

اسلام آباد انتظامیہ نے احتجاجی قافلوں کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا سے آنے والے راستوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور موٹر وے، جی ٹی روڈ، 26 نمبر چونگی اور مارگلہ ٹیکسلا کے قریب خندقیں کھودنے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ چڑھائی کو ناکام بنایا جا سکے۔

Related posts