26 نومبر احتجاج: علیمہ خان کے خلاف درج مقدمے کا فیصلہ محفوظ

راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد میں گھیراؤ جلاؤ، ہنگامہ آرائی اور احتجاج کی ترغیب دینے کے الزامات کے تحت درج اس مقدمے کی حتمی سماعت منگل کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔

عدالت نے فریقین کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد اعلان کیا ہے کہ کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ پچیس ستمبر کو سنایا جائے گا۔

اکتوبر 2025 میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے علیمہ خان اور دیگر نامزد ملزمان کے خلاف اس کیس میں فردِ جرم عائد کرنے کی رسمی کارروائی کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد مسلسل اور باقاعدہ سماعتوں کے نتیجے میں مقدمہ اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھا ہے۔

کیس کی تفصیلی کارروائی کے دوران پراسیکیوشن اور دفاعی وکلا کی جانب سے حتمی دلائل پیش کیے گئے۔

اس اہم مقدمے کی سماعتوں کے دوران عدالت نے کُل 19 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جبکہ تمام گواہوں پر وکلا صفائی کی جانب سے جرح کا عمل بھی مکمل کیا گیا۔

یہ مقدمہ 26 نومبر 2024 کو پی ٹی آئی کے اسلام آباد کے ڈی چوک میں کیے جانے والے اس بڑے احتجاجی مظاہرے کے پس منظر میں درج کیا گیا تھا جو عمران خان کی رہائی اور دیگر سیاسی مطالبات کے لیے کیا گیا تھا۔

اس مظاہرے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کریک ڈاؤن اور فائرنگ کے واقعات کے باعث شدید ہنگامہ آرائی ہوئی تھی جس میں ہلاکتیں بھی پیش آئیں اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا تھا۔

راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں اس حوالے سے مقدمات قائم کیے گئے تھے جن میں سے تھانہ صادق آباد کا کیس اب حتمی فیصلے کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

Related posts