وائٹ ہاؤس میں پریس پر پابندی: ممدانی کا ملاقات کے دوران ٹرمپ کو لائیو چیلنج
امریکی شہر نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے ان میڈیا اداروں کو بھی نیویارک آنے کی دعوت دے دی ہے جنہیں حال ہی میں وائٹ ہاؤس میں کوریج سے روک دیا گیا۔
امریکی نیوز چینل فاکس نیوز کے مطابق ظہران ممدانی نے پیر کو گریسی مینشن میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ نیویارک میں ہونے والی مشترکہ ملاقات کے لیے تمام میڈیا اداروں کے نمائندوں کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
ایک صحافی نے ممدانی سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے صدر ٹرمپ سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کو وائٹ ہاؤس سے دور رکھنے کے فیصلے پر بات کی ہے؟
اس پر ظہران ممدانی نے کہا کہ میں نے صدر سے کہا کہ ہم یہاں لان میں پریس کے تمام ارکان کو موجود رکھیں گے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر شخص کو، چاہے اس کی رائے یا تنقید کچھ بھی ہو، ہمیں اس کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔
بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی میڈیا کے معاملے پر گفتگو کی اور ان ٹی وی نیٹ ورکس کی جانب سے صدارتی تقریبات کی کوریج معطل کرنے کا ذکر کیا جن میں فاکس نیوز میڈیا، اے بی سی نیوز، سی بی ایس نیوز، سی این این اور این بی سی نیوز شامل تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ دلچسپ ہے کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ میرا بائیکاٹ کریں گے، لیکن انہوں نے کبھی میرا بائیکاٹ نہیں کیا۔ اس لیے میں زیادہ پریشان نہیں تھا۔ دیکھیں، یہاں کتنا سارا پریس موجود ہے۔
ٹرمپ نے وضاحت کی کہ ان میڈیا اداروں کے ساتھ گریسی مینشن میں بات چیت کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے خیال میں میڈیا کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض میڈیا اداروں نے ان کی کامیابیوں کی مناسب کوریج نہیں کی، جن میں انتخابات میں کامیابی، جنگوں کے خاتمے کے لیے اقدامات اور معاشی اعداد و شمار میں بہتری شامل ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں صرف اس لیے ایسا کر رہا ہوں کیونکہ میرے خیال میں پریس کی بھی ایک ذمہ داری ہے۔
ٹرمپ نے امریکی معیشت کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ملک کی تاریخ کے بہترین معاشی اعداد و شمار ہیں۔ ہمارے ملک میں 21 ٹریلین ڈالر آ رہے ہیں، جو اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔ کسی نے وہ نہیں کیا جو ہم نے کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے بعض میڈیا اداروں کو دور رکھنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان اداروں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت دینا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بعض میڈیا اداروں پر ایسی خبریں نشر کرنے کا الزام بھی لگایا جنہیں وہ جعلی خبریں قرار دیتے ہیں۔