تحریک انصاف کا لانگ مارچ ہوگا یا نہیں: پارٹی میں اختلافات بڑھنے لگے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ پر پارٹی میں اختلافات بڑھنے لگے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ارکان پارلیمان نے لانگ مارچ ملتوی کرکے اکتوبر کے آغاز میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے اور حکومت سے مذاکرات کی تجویز دے دی ہے جب کہ اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں نے بھی مشاورت کے لیے سرجوڑ لیے ہیں۔

جمعرات کو خیبر پختونخوا کے اراکین پارلیمنٹ کا اجلاس پشاور میں ہوا، اجلاس میں جنید اکبر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے جب کہ اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔

خیبرپختونخوا کے ارکان نے حکومت سے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے فی الحال لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز دی۔

اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کے اراکین کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ بھی کیا گیا جب کہ آل پارٹیز کانفرنس اکتوبر کے پہلے ہفتے میں بلانے کی تجویز دی گئی، جس میں سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کی بات کی گئی۔

خیبر پختونخوا کے اراکین نے حکومت سے مذاکرات کے لیے رضا مندی بھی ظاہر کردی اور کہا کہ اگر حکومت مذاکرات کرنا چاہ رہی ہے تو کرنے چاہیے، ان حالات میں لانگ مارچ ممکن نہیں۔

اکثریتی اراکین نے کہا کہ لانگ مارچ سے خالی ہاتھ لوٹنے پر نقصان پارٹی کا ہوگا، حکومت نے تمام راستے بند کیے ہیں، اسلام آباد پہنچنے میں دشواری ہوگی۔

دوسری جانب اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی۔ قائد حزب اختلاف سینیٹ راجہ ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ملاقات میں 27 ستمبر کے لانگ مارچ پر مشاورت کی۔

ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطہ کاری، باہمی تعاون اور مشترکہ لائحہ عمل کو مزید مؤثر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رہنماؤں نے خیبرپختونخوا کی موجودہ صورت حال، امن و امان اور صوبائی خود مختاری کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا جب کہ ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر بھی مشاورت کی گئی۔

اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان باہمی رابطوں اور مشاورت کے عمل کو مزید مضبوط اور مربوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

ادھر پی ٹی آئی رہنماؤں کی قانونی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، پشاور پولیس نے 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی رپورٹ انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرا دی۔

ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گگیانی کے مطابق رپورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو نامزد کیا گیا ہے، اس کے علاوہ تیمور سلیم جھگڑا، عرفان سلیم، کامران بنگش اور دیگر ملزمان کو بھی کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت سے چالان کی تیاری کے لیے مزید وقت مانگ لیا۔

Related posts