پارلیمانی پارٹی اجازت دے تو اسمبلی توڑ سکتا ہوں: سہیل آفریدی اور گنڈا پور ملاقات کی اندرونی کہانی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، جس میں سہیل آفریدی نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اجازت دے تو اسمبلی توڑ سکتا ہوں۔
پاکستان تحریک انصاف کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ملتوی کرنے پر پارٹی میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، اتوار کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی جب بغیر سیکیورٹی اور پروٹوکول کے ڈیرہ اسماعیل خان دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کے لیے پہنچے تو انہیں علی امین گنڈا پور بھی یاد آ گئے۔
جس کے بعد سہیل آفریدی نے علی امین گنڈا پور سے ان کے ڈیرے پر ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے لانگ مارچ کی ناکامی اور موجودہ سیاسی صورت حال پر تفصیلی گفتگو کی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے علی امین گنڈاپور کو اپنی صورت حال سے آگاہ کیا اور مختلف معاملات سے متعلق اپنے تحفظات بھی بیان کیے۔
سہیل آفریدی نے شکوہ کیا کہ مختلف انڈیکیشنز دیے جا رہے ہیں جب کہ ملاقات میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے ممکنہ آپشن پر بھی بات ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں وفاقی آئینی عدالت کے آنے والے فیصلے پر بھی بات ہوئی، گفتگو میں یہ امکان زیرغور آیا کہ اگر وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے فیصلہ آتا ہے تو علی امین گنڈاپور دوبارہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بن سکتے ہیں۔
اس حوالے سے ایک دوسرے آپشن پر بھی بات ہوئی کہ اگر صدر کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جاتا ہے تو کیا صورت حال پیدا ہوسکتی ہے، قومی اسمبلی کی مدت میں توسیع کے معاملے کا بھی ذکر کیا گیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ملاقات میں اسلام آباد لانگ مارچ سے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔ اس دوران اس امکان پر بات ہوئی کہ اگر لانگ مارچ سے دستبرداری اختیار کی جائے یا اس کا نام نہ لیا جائے تو خیبرپختونخوا حکومت بچ سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران علی امین گنڈاپور نے پارٹی مفادات کو حکومت پر ترجیح دینے کا عندیہ دیا، حالات بند گلی میں گئے تو پارلیمانی پارٹی کی اجازت سے اسمبلی توڑنے پر غور ہوسکتا ہے، جس پر سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمانی پارٹی اجازت دے تو وہ اسمبلی توڑنے کے لیے تیار ہیں۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں متبادل وزیر اعلیٰ اور پارٹی قیادت کو اعتماد میں لینے پر بات چیت ہوئی جب کہ علی امین گنڈا پور نے سہیل آفریدی سے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کی مشاورت اور اجازت سے صوبائی اسمبلی توڑی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں اسمبلی توڑنے کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت نہ کرنے کے حوالے سے بھی بات ہوئی جب کہ عمران خان سے جیل میں ہونے والی ملاقات بھی زیرِ بحث آئی، جو ان کی بہنوں اور پارٹی کی دیگر قیادت کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
علی امین گنڈا پور نے سہیل آفریدی کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے ملاقات کے دوران پارٹی کو نقصان پہنچانے والے چند اہم عہدیداروں پر بھی نام لے کر سخت تنقید کی اور سہیل آفریدی کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق عمران خان کی ناراضی کا اظہار بشریٰ بی بی، ایک سینیٹر اور بہنوں کی موجودگی میں ہوا، سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کی ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کی ناراضی کا بھی ذکر ہوا۔