ڈیرہ اسماعیل خان میں امن میلہ چیک پوسٹ پر خود کش دھماکے کا مقدمہ درج

خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ مشترکہ چیک پوسٹ پر خود کش دھماکے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جب کہ سی ٹی ڈی کی مدعیت میں درج مقدمے میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی سمیت متعدد دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مقدمے کے متن کے مطابق فتنہ الخوارج نے بارود سے بھری گاڑی امن میلہ مشترکہ چیک پوسٹ سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 12 اہلکار شہید ہوئے جب کہ 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

ایف آئی آر کے مطابق دھماکے کے بعد دہشت گردوں نے زخمیوں اور لاشوں کو منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو بھی راستے میں نشانہ بنایا۔

مقدمے میں بتایا گیا کہ امن میلہ مشترکہ چیک پوسٹ پر مختلف سرکاری محکموں کے اہلکار فرائض انجام دے رہے تھے، جن میں پولیس، وائلڈ لائف، محکمہ جنگلات، ایکسائز اور کسٹمز کے اہلکار بھی شامل تھے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق حملے کے نتیجے میں چیک پوسٹ پر موجود اہلکاروں کے علاوہ شہری بھی متاثر ہوئے اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

سی ٹی ڈی کی مدعیت میں درج مقدمے میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں جب کہ واقعے کی مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

مقدمے کے مطابق حملے کی ذمہ داری ایک مقامی دہشت گرد تنظیم نے قبول کی ہے۔ ایف آئی آر میں حملے کے طریقہ کار اور دھماکے کے بعد زخمیوں اور لاشوں کی منتقلی کے دوران ریسکیو ایمبولینس کو نشانہ بنائے جانے کی تفصیلات بھی درج کی گئی ہیں۔

دہشت گرد حملے میں شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں امن میلہ مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ اعجاز شہید پولیس لائنز میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کردی گئی، شہدا میں کسٹمز کے حوالدار فرمان، سپاہی اسامہ اور ریسکیو اہلکار شریف اللہ بھی شامل ہیں۔

نماز جنازہ میں کمشنر داؤد خان، اسٹیشن کمانڈر بریگیڈیئر سلمان عادل شاہ، آر پی او غلام مبشر میکن اور ڈی پی او ضیا الدین احمد سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام، پولیس افسران اور سیکیورٹی اہلکاروں نے شرکت کی۔

نماز جنازہ کے موقع پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے دستے نے شہدا کے جسد خاکی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سلامی پیش کی۔ شہدا کے جسد خاکی پر پھول چڑھائے گئے جب کہ ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا بھی کی گئی۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہداء کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئیں۔

اس موقع پر شرکا کا کہنا تھا کہ امن و سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ شرکا نے مزید کہا کہ قوم اپنے شہدا کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Related posts