اے آئی سے دنیا کی تباہی کے خدشات کی خبریں جعلی نہیں ہیں: پوپ لیو

عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے انسانیت کو لاحق ممکنہ خطرات سے متعلق خدشات کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خدشات محض جعلی خبریں نہیں ہیں۔

فرانس کے چار روزہ دورے کے بعد روم واپسی پر دورانِ پرواز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے اٹھائے جانے والے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

پوپ لیو کا کہنا تھا کہ یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت اس حد تک ترقی نہ کر جائے کہ وہ انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی کے حوالے سے ماہرین کی جانب سے ظاہر کیے جانے والے خدشات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اس کے ممکنہ اثرات اور خطرات پر بھی سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔

پوپ لیو نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی ایسی سمت میں ہونی چاہیے جس سے انسانیت کو نقصان پہنچنے کے بجائے اس کے فوائد حاصل ہوں۔

پوپ لیو کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ مؤقف کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو لاحق خطرات کے خدشات کو ’فریب‘ قرار دیا تھا۔

پوپ لیو نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بعض سربراہان کے اس مؤقف پر بھی تنقید کی کہ اس ٹیکنالوجی پر سخت پابندیاں یا حکومتی نگرانی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں 28 ستمبر کو یہ خبر ملی کہ امریکی چِپ ساز کمپنی این ویڈیا کے سربراہ نے مصنوعی ذہانت کے بعض ماڈلز میں حفاظتی حدود شامل کرنے کے امکان کی بات کی ہے، تاہم پوپ نے ان کے سابقہ مؤقف کی جانب بھی توجہ دلائی۔

پوپ لیو نے کہا کہ تاہم یہی وہ شخص ہیں جو کہتے ہیں کہ اے آئی پر کوئی حدود نہیں ہونی چاہئیں اور حکومت کو اس حوالے سے ضابطے نہیں بنانے چاہئیں۔‘

این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ نے رواں ماہ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی حفاظت سے متعلق خدشات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

پوپ لیو نے دنیا پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بات چیت، تحقیق اور مطالعات کو فروغ دیا جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اے آئی ایسی سطح تک نہ پہنچے جہاں وہ انسانیت کی تباہی کا سبب بن سکے۔

ان کا کہنا تھا، ’ہمیں مکالمے، مطالعے اور تحقیق کو فروغ دینا ہوگا اور ایسے طریقے تلاش کرنا ہوں گے جن سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اے آئی اس مقام تک نہ پہنچے جہاں وہ انسانیت کو تباہ کر سکے۔‘

پوپ لیو نے مزید کہا کہ دنیا میں بہت سے لوگ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

Related posts