امریکا کا ایران اور نجف کے درمیان پروازوں کو پابندیوں میں استثنا دینے کا فیصلہ
امریکا نے ایران اور عراق کے شہر نجف کے درمیان پروازوں کی اجازت دینے کے لیے ایران پر عائد پابندیوں میں محدود اور عارضی نرمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پیر کو ایران سے متعلق پابندیوں میں ایک محدود چھوٹ دینے والی ہے، جس کے تحت ایران سے عراق کے شہر نجف جانے والے شیعہ زائرین کی پروازیں بحال کی جا سکیں گی۔ معاملے سے براہ راست واقف ایک شخص نے بتایا کہ امریکی محکمہ خزانہ اس حوالے سے اجازت دے گا۔
ذرائع کے مطابق یہ چھوٹ ایک ماہ کے لیے ہوگی اور اس کے تحت عراقی ایئر ویز ایران اور نجف کے درمیان پروازیں چلا سکے گی۔ بعد میں اس اجازت کو مستقل کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
عراق نے امریکی پابندیوں کے تحت جمعے کو ایران کے لیے اور ایران سے آنے والی پروازیں روک دی تھیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطہ متاثر ہوا۔
معاملے میں شامل ایک ذرائع نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے یہ قدم عراقی حکومت پر دباؤ کم کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی امریکا کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک ایران کے ساتھ اپنے دیرینہ اور اہم تعلقات کو بھی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر نے ہفتے کے اختتام پر کہا تھا کہ حکومت ایران اور عراق کے درمیان طبی علاج، تعلیم اور مذہبی زیارت کے لیے سفر کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایک عراقی عہدیدار نے بتایا کہ حکومت نجف کے لیے پروازوں کی اجازت کے معاملے پر امریکا سے بات چیت کر رہی ہے اور توقع ہے کہ ایران اور نجف کے درمیان پروازیں 48 گھنٹوں کے اندر بحال ہو جائیں گی۔
امریکا کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے نتیجے میں خطے کے کئی ممالک ایران کے ساتھ اپنے تعلقات محدود کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ترکی، متحدہ عرب امارات اور عراق نے بھی ایران کے ساتھ براہ راست پروازیں منسوخ کی ہیں۔
اس صورتحال پر ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ فضائی رابطے مسلسل محدود کیے گئے تو ایران بھی خطے میں فضائی سفر روکنے کے اقدامات کر سکتا ہے۔
ایران اور عراق کے درمیان مذہبی زائرین کی بڑی تعداد ہر سال سفر کرتی ہے، جس کے باعث عراق اس معاملے میں خاص طور پر حساس صورتحال سے دوچار ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران اور عراق کے درمیان پروازوں پر پابندی عائد رہنے کی صورت میں عراق کی حکومت کو اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے ایران کے روحانی رہنما کی پیروی کرنے والے شیعہ زائرین اور عراق کے بزرگ مذہبی رہنما آیت اللہ علی سیستانی کے پیروکاروں کو ایک معاملے پر متحد ہونے کا موقع مل سکتا ہے، جس سے عراق میں ایرانی اثر و رسوخ کم کرنے کی امریکی کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے پروازوں کے لیے حفاظتی اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراق نے مسافروں کی سخت جانچ پڑتال، معلومات کے تبادلے اور اس بات کو یقینی بنانے کی پیشکش کی ہے کہ ان پروازوں کو ہتھیاروں، پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا غیر قانونی رقم کی منتقلی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس معاملے پر سوالات کا جواب دینے کے بجائے انہیں محکمہ خزانہ کی طرف بھیج دیا، تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔