پی سی بی کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کو ‘افغانستان پریمیئر لیگ’ میں کھیلنے کی اجازت نہ ملنے کی خبریں
سوشل میڈیا پر زیرِ گردش خبروں میں دعویٰ کیا گیا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے حکومت کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اپنے موجودہ اور سابق کھلاڑیوں کو افغانستان پریمیئر لیگ (اے پی ایل) میں شرکت کے لیے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ یعنی این او سی جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ لیگ رواں سال کے آخر میں متحدہ عرب امارات میں کھیلی جانی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی سی بی نے یہ قدم دو افغان فرنچائزز ’بلخ زوانان‘ اور قندھار واریئرز‘ کی جانب سے چھ پاکستانی کھلاڑیوں سے معاہدے کے لیے رابطہ کیے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
خبروں کے مطابق، پی سی بی نے انکار کرتے ہوئے قومی کرکٹ کی مصروفیات اور کھلاڑیوں کی دیکھ بھال اور بہتری کو سب سے پہلی ترجیح قرار دیا ہے۔
پی سی بی کے اس مبینہ فیصلے پر کرکٹ کے حلقوں میں ملا جلا ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔
پاکستان میں بورڈ کے حامیوں نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پی سی بی نے قومی ذمہ داریوں کو بنیادی ترجیح بنا کر بالکل درست قدم اٹھایا ہے۔
دوسری جانب افغان کرکٹ شائقین اور وہاں کے حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف قسم کے خیالات پائے جاتے ہیں؛ جہاں کچھ لوگوں نے اسے معمول کا فیصلہ سمجھا وہیں کچھ نے لیگ کے مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔
اگر پی سی بی کا یہ فیصلہ حقیقی ہے تواب کوئی بھی موجودہ یا سابق پاکستانی کرکٹر افغانستان پریمیئر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں ایکشن میں نظر نہیں آئے گا۔