آئی سی سی نے کرکٹ قوانین میں نئی تبدیلیاں کردیں
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ کے قوانین میں کئی اہم تبدیلیاں کردی ہیں، جن کا مقصد کھیل میں وقت ضائع ہونے کو روکنا، گیند کے معیار کو واضح کرنا اور فیلڈنگ سے متعلق بعض قوانین کو مزید آسان بنانا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق نئی تبدیلیاں ان تمام بین الاقوامی سیریز پر لاگو ہوں گی جو یکم اکتوبر 2026 یا اس کے بعد شروع ہوں گی، جبکہ پہلے سے جاری سیریز پر پرانے قوانین ہی لاگو رہیں گے۔
آئی سی سی کے مطابق مردوں اور خواتین کی کرکٹ کے تمام فارمیٹس کے نئے پلیئنگ کنڈیشنز میں میریلبون کرکٹ کلب کے قوانین میں ہونے والی تازہ تبدیلیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین سوراو گنگولی نے کہا کہ پلیئنگ کنڈیشنز میں گیندوں، فیلڈنگ اور کھیل کی رفتار بہتر بنانے سے متعلق اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
سوراو گنگولی کا کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں پر احتیاط سے غور کیا گیا ہے تاکہ پلیئنگ کنڈیشنز جدید کرکٹ کی ضروریات کے مطابق رہیں اور کھیل میں شفافیت اور یکسانیت برقرار رہے۔
نئے قوانین کے تحت بیٹر کے جانب سے وقت ضائع کرنے پر بھی سختی کردی گئی ہے۔ اگر بیٹر مقررہ وقت کے اندر گیند کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو پہلی مرتبہ وارننگ دی جائے گی، دوسری مرتبہ آخری وارننگ ہوگی، جبکہ تیسری اور اس کے بعد ہر خلاف ورزی پر فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کو پنالٹی کے طور پر پانچ رنز دیے جائیں گے۔ بار بار خلاف ورزی کی صورت میں ضابطہ اخلاق کے تحت بھی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
خواتین اور جونیئر کرکٹ میں استعمال ہونے والی گیندوں کے سائز اور وزن کے حوالے سے بھی نئے معیار مقرر کیے گئے ہیں۔ اب مردوں، خواتین اور جونیئر کرکٹ کے لیے گیند کے سائز اور وزن کے تین مختلف مقررہ پیمانے ہوں گی۔
اوور تھرو کے قانون میں بھی وضاحت کردی گئی ہے۔ اب گیند کو اسٹمپس کی طرف پھینکنے کی کوشش، تاکہ رنز روکنے یا رن آؤٹ کرنے کی کوشش کی جائے، اوور تھرو تصور ہوگی۔ تاہم گیند روکنے یا کسی دوسرے فیلڈر کو دینے کی کوشش میں ہونے والی عام مس فیلڈ کو اوور تھرو نہیں کہا جائے گا۔
گیند کے مکمل طور پر رکنے سے متعلق قانون میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب امپائر کو یہ طے کرنے میں زیادہ اختیار ہوگا کہ گیند کب مکمل طور پر رک گئی ہے۔ گیند کا لازمی طور پر بولر یا وکٹ کیپر کے ہاتھ میں ہونا ضروری نہیں ہوگا۔
اسی طرح رن آؤٹ یا اسٹمپنگ کے لیے فیلڈر کے گیند پر مکمل قابو میں ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ صرف ہاتھ سے گیند کا چھو کر اسی دوران اسٹمپس سے ٹکرانا گیند پر مکمل کنٹرول تصور نہیں ہوگا۔
ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ آزمائشی طور پر باہمی رضامندی سے ڈے ٹیسٹ میچ میں پَنک بال استعمال کی جاسکے گی تاکہ خراب روشنی کے باعث کھیل کے ضائع ہونے کا وقت کم کیا جاسکے۔
گلابی گیند استعمال کرنے کا فیصلہ میچ شروع ہونے سے پہلے کرنا ہوگا اور ایک مرتبہ فیصلہ ہوجانے کے بعد پورے میچ میں اسی پر عمل کرنا ہوگا۔ میچ شروع ہونے کے بعد سرخ گیند کو گلابی گیند سے تبدیل نہیں کیا جاسکے گا۔
ٹیسٹ میچ کے آخری اوور میں اگر وکٹ گر جائے تو کھیل خود بخود ختم نہیں ہوگا بلکہ اوور مکمل کیا جائے گا۔ آئی سی سی کے مطابق اس تبدیلی سے اگلے دن باقی گیندیں کرانے کی ضرورت کم ہوگی اور فیلڈنگ ٹیم کو بھی فائدہ ملے گا۔
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اننگز کے درمیان 15 منٹ کا وقفہ مقرر کردیا گیا ہے، تاہم اگر میچ کے دوران وقت ضائع ہو تو یہ وقفہ کم کرکے کم از کم 10 منٹ کیا جاسکتا ہے۔
ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ڈرنکس بریک کے دوران ہیڈ کوچ یا ان کی جانب سے مقرر کردہ شخص کو میدان میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔
ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں وائیڈ بال کے حوالے سے نیا قانون بھی اب مستقل طور پر پلیئنگ کنڈیشنز کا حصہ بن گیا ہے۔
اس قانون کے تحت گیند کراتے وقت بیٹر کی ٹانگوں کی پوزیشن کو وائیڈ کا فیصلہ کرنے کے لیے بنیادی حوالہ بنایا جائے گا، چاہے بیٹر گیند آنے کے بعد آف سائیڈ کی طرف حرکت کرلے۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد کھیل میں وقت کے ضیاع کو کم کرنا، مختلف حالات میں قوانین کی بہتر وضاحت کرنا اور جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق کھیل کو مزید منظم بنانا ہے۔