حکومت اپوزیشن مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: دونوں وفود پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج قومی اسمبلی کے اسپیکر چیمبر میں ہو رہا ہے۔ دونوں جانب کے وفود کے بیشتر ارکان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔ مذاکرات کے پہلے دور میں فریقین نے اپنے اپنے مطالبات ایک دوسرے کے سامنے رکھے تھے، جبکہ آج کی نشست میں بات چیت کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزرا محسن نقوی اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری جبکہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ اسپیکر چیمبر میں موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں شامل نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی بھی مذاکرات کے لیے پہنچ چکے ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے سلمان اکرم راجہ، حلیم عادل شیخ اور عامر ڈوگر بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں تاہم سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصرعباس، چیئر مین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور سابق اسپیکر اسد قیصر تاحال پارلیمںٹ ہاؤس نہیں پہنچے ہیں۔

مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے آج دوپہر دو بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا، جسے آج صبح تبدیل کرکے 3 بجے کر دیا گیا تھا۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری طریقے سے معاملات حل ہونا بہتر ہے، یہ مذاکرات اسی امید کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔

مذاکرات کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت مسائل کو الجھانے کے بجائے انہیں سلجھانے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل جاری ہے، اس لیے فی الحال اس پر کوئی تبصرہ نہ کرنا ہی بہتر ہوگا۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے بھی صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ مذاکرات سے اچھی امید رکھنی چاہیے اور تمام باتیں مذاکرات کی میز پر ہی کی جائیں گی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مذاکرات میں یہ طے ہوا ہے کہ اندر ہونے والی گفتگو باہر نہیں آئے گی لیکن کچھ افراد نے اپنا یک طرفہ بیانیہ میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ ہمیں بانی پی ٹی آئی تک رسائی ملنی چاہیے۔

مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان بھی ایک گھنٹے سے زائد ملاقات ہوئی ہے۔

اس ملاقات میں محسن نقوی نے وزیراعظم کو اپوزیشن کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر بریفنگ دی، جبکہ ملک کی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ہفتے کے روز مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ سے قبل تحریک انصاف کی سیاسی اور کور کمیٹی کا بھی ایک اجلاس ہوا ہے، جس میں حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات اور 4 اکتوبر کو ہونے والے لانگ مارچ کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں بیرسٹر گوہر نے شرکاء کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق ارکان کی اکثریت نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی حمایت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی صورت میں لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھائی جا سکتی ہے جب کہ لانگ مارچ کو مؤخر یا منسوخ کرنے کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔

اپوزیشن اتحاد کے اس اجلاس میں شرکاء نے محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرانے کی تجویز کی بی توثیق کی ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جو اس سے قبل 27 ستمبر کو ہونا تھا۔ جمعرات کو چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بتایا تھا کہ اپوزیشن اتحاد کے متفقہ فیصلے کی روشنی میں تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت قبول کر لی ہے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ روز، جمعے کو قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں ہوا تھا۔ اس نشست میں حکومتی اور اپوزیشن وفود نے سیاسی صورت حال اور دیگر معاملات پر اپنے اپنے مؤقف سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا تھا۔

کئی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد دونوں جانب سے ہفتے کو دوبارہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کے بعد آج مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ جاری ہے۔

Related posts