خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی: 24 گھنٹے میں اہم فیصلہ متوقع

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے آئندہ 24 گھنٹے اہم قرار دیے جا رہے ہیں اور اس دوران اہم فیصلہ متوقع ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس میں پی ٹی آئی لانگ مارچ سے پیدا صورت حال اور ممکنہ آئینی آپشنز پر غور کیا گیا۔

پیر کو اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں ملکی سیاسی اور سیکیورٹی صورت حال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں سینئر حکومتی رہنماؤں اور وفاقی وزرا نے شرکت کی جب کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے پیدا ہونے والی صورت حال اور اس کے تناظر میں ممکنہ آپشنز کا جائزہ لیا گیا جب کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج سمیت دیگر آئینی آپشنز پر بھی غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران صوبے کی سیاسی اور سیکیورٹی صورت حال سمیت امن و امان سے متعلق امور پر بھی مشاورت کی گئی۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے حوالے سے آئندہ 24 گھنٹے اہم ہیں اور اس دوران اہم فیصلہ متوقع ہے تاہم اجلاس میں زیر غور آپشنز سے متعلق تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ہنگامی دورے پر پشاور پہنچے تھے، جہاں انہوں نے گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے اہم اور تفصیلی ملاقات کی تھی، اس ہنگامی نشست میں صوبے میں سیکیورٹی، امن و امان کے درپیش چیلنجز اور موجودہ کشیدہ صورت حال کے مقابلے کے لیے ممکنہ آئینی آپشنز پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

صورتِ حال کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس ملاقات کے دوران آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید کو بھی خصوصی طور پر گورنر ہاؤس طلب کیا گیا تھا جب کہ صوبے کے چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ بھی وہاں موجود تھے اور انہوں نے انتظامی و سیکیورٹی امور پر حکام کو بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورۂ پشاور اور وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت اجلاس ایک ایسے نازک موقع پر سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لانگ مارچ اور دیگر سیکیورٹی امور پر ہونے والے مذاکرات ناکامی کا شکار ہو چکے ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے۔

اس ڈیڈلاک کے بعد اسلام آباد اور پشاور کی سیاسی راہداریوں میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق افواہیں اور بیانات زور پکڑ چکے ہیں۔

پشاور میں محسن نقوی سے ہونے والی اس اہم ملاقات کے دوران گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی صورت میں اپنا قانونی اور آئینی کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، اور گورنر ہاؤس صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان کی جانب سے بھیجی جانے والی کسی بھی آئینی ایڈوائس پر من و عن عمل در آمد کرے گا۔

وزیراعظم کے آج ہونے والے اس اجلاس کے بعد خیبرپختونخوا کے مستقبل کے انتظامی و سیاسی ڈھانچے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔

Related posts