بھارتی ہوائی جہاز میں پاور بینک پھٹنے سے دھماکہ، فضا میں ہنگامہ
بھارت میں دہلی سے چنئی جانے والی انڈیگو ایئرلائن کی پرواز کو دورانِ سفر ایک مسافر کے پاور بینک میں آگ لگنے کے بعد طیارے کا رخ حیدرآباد کی جانب موڑ دیا گیا اور طیارہ ہنگامی طور پر راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتارنا پڑا۔
مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ آگ طیارے کے اوپر سامان رکھنے والے خانے میں لگی، جس پر مسافروں نے ابتدائی طور پر اسے بجھانے کی کوشش کی، تاہم بعد میں عملے نے فائر ایکسٹنگوئشر کی مدد سے آگ پر قابو پایا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق انڈیگو ایئر لائن کی فلائٹ 11 اکتوبر 2026 کو دہلی سے چنئی جارہی تھی۔ آگ اوپر سامان رکھنے والے خانے میں موجود پاور بینک میں آگ لگی تھی۔ کیبن کریو نے آگ بجھانے کے لیے فائر ایکسٹنگوئشر استعمال کیا اور صورت حال پر قابو پالیا۔
پرواز میں موجود ایک مسافر کی بنائی گئی ویڈیو میں سامان رکھنے والے خانے سے شعلے اور نارنجی روشنی نکلتی دکھائی دیتی ہے۔ ویڈیو میں مسافروں کو اپنی نشستوں سے اٹھ کر آگ بجھانے کی کوشش کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض مسافروں نے اپنے بیگز کی مدد سے آگ کو بجھانے کی کوشش کی۔
ایئرلائن کے مطابق، عملے نے فوری کارروائی کی اور صورت حال کو قابو میں لے لیا۔ مسافروں کو چنئی پہنچانے کے لیے متبادل طیارے کا انتظام بھی کیا گیا۔
پاور بینک میں آگ کیوں لگ سکتی ہے؟
پاور بینک میں عموماً لیتھیم آئن بیٹری استعمال ہوتی ہے۔ اگر بیٹری خراب ہو، اس میں کوئی نقص ہو یا اس کے اندر برقی خرابی پیدا ہو جائے تو وہ غیر معمولی طور پر گرم ہو سکتی ہے اور بعض صورتوں میں اس سے دھواں یا آگ بھی نکل سکتی ہے۔
بیٹری میں تیزی سے حرارت پیدا ہونے اور اس کے بے قابو انداز میں بڑھنے کے عمل کو ’تھرمل رن اوے‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں بیٹری سے شعلے اور آتش گیر گیسیں خارج ہو سکتی ہیں، جس سے طیارے کے محدود حصے میں آگ پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسی خطرے کے پیش نظر فضائی حفاظتی قواعد کے تحت پاور بینک عموماً ہینڈ کیری سامان میں رکھنے کی ہدایت دی جاتی ہے، تاکہ بیٹری میں خرابی پیدا ہونے کی صورت میں عملہ فوری کارروائی کر سکے۔ مسافروں کو بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر کوئی برقی آلہ غیر معمولی طور پر گرم ہو، اس سے دھواں نکلے یا آگ لگ جائے تو فوراً کیبن کریو کو اطلاع دیں۔
پروازوں میں اس نوعیت کے دیگر واقعات
یہ واقعہ طیاروں میں لیتھیم آئن بیٹریوں سے متعلق حفاظتی خدشات کی ایک اور مثال ہے۔ مارچ 2025 میں ہانگ کانگ ایئرلائنز کی ہانگژو سے ہانگ کانگ جانے والی پرواز کا رخ اس وقت فوزو کی طرف موڑ دیا گیا تھا جب سامان رکھنے والے خانے میں پاور بینک میں آگ لگ گئی۔ طیارے نے بحفاظت لینڈنگ کی تھی۔
جولائی 2025 میں ورجن آسٹریلیا کی ایک پرواز میں بھی مسافر کے پاور بینک سے متعلق سامان رکھنے والے خانے میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ کیبن کریو نے آگ بجھائی اور طیارہ بعد میں ہوبارٹ میں بحفاظت اتار لیا گیا تھا۔
انڈیگو کی دہلی سے چنئی جانے والی پرواز کا رخ موڑنے کا یہ واقعہ بھی بھارت میں پاور بینک میں آگ لگنے کا پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے 5 مارچ 2026 کو چندی گڑھ میں لینڈنگ کے بعد انڈیگو کی ایک اور پرواز میں مسافر کے پاور بینک میں آگ لگ گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق پاور بینک کو زیادہ گرم ہونے سے بچانا ضروری ہے۔ جدید پاور بینک میں عموماً بیٹری مینجمنٹ سسٹم (بی ایم ایس) موجود ہوتا ہے، جو بیٹری کی حالت پر نظر رکھنے اور حد سے زیادہ چارج ہونے، ضرورت سے زیادہ ڈسچارج ہونے اور درجہ حرارت بڑھنے جیسے مسائل سے تحفظ فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم اس نظام کی صلاحیتیں ہر آلے میں مختلف ہو سکتی ہیں۔
دورانِ پرواز پاور بینک سے متعلق احتیاط صرف آلے کو محفوظ رکھنے تک محدود نہیں، بلکہ خرابی کی صورت میں فوری کارروائی بھی اہم ہے۔ اس لیے مسافروں کو چاہیے کہ وہ ایئرلائن کے قواعد پر عمل کریں اور بیٹری میں غیر معمولی تبدیلی محسوس ہونے پر فوراً عملے کو اطلاع دیں۔