کیمرے والی عینکوں کی فروخت: عدالت حکومتی اداروں پر برہم

لاہور ہائیکورٹ نے خفیہ کیمرے والی عینکوں کی غیر قانونی درآمد اور کھلے عام فروخت پر متعلقہ حکومتی اداروں کی سرزنش کرتے ہوئے وزارتِ کامرس کو معاملہ فوری طور پر وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے خبردار کیا کہ ان عینکوں کے ذریعے کسی کی بھی خفیہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائی جا سکتی ہے، جو شہریوں کی نجی زندگی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے نادرہ بی بی کی درخواست پر سماعت کے دوران استفسار کیا کہ متعلقہ محکمے کیا کر رہے تھے کہ خفیہ کیمرے جیسی حساس اشیا بازاروں میں سرعام فروخت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر ان عینکوں کے ذریعے کسی کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ انہوں نے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی سنگینی کو سمجھیں اور اپنے بچوں سے بھی ایسی عینکوں کے بارے میں پوچھیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک بھر کی مارکیٹوں اور سپر اسٹورز میں خفیہ کیمرے والی عینکیں حکومتی منظوری یا این او سی کے بغیر فروخت کی جا رہی ہیں۔ ان عینکوں کے ذریعے خفیہ ریکارڈنگ ممکن ہے، جو شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت اور سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ایسی عینکوں کی درآمد اور فروخت پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

سماعت کے دوران ممبر کسٹمز کی عدالتی حکم کے باوجود ذاتی حیثیت میں پیش نہ ہونے پر بھی چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور ان کی کراچی آمد و رفت اور پرواز کی تفصیلات طلب کرلیں۔

کسٹمز کے وکیل فیصل نواز نے عدالت کو بتایا کہ ممبر کسٹمز مصروفیت کے باعث کراچی میں ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے۔

اس پر چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا عدالتی احکامات پر اس طرح عمل کیا جاتا ہے؟ بعدازاں کسٹمز کے وکیل نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

عدالت نے کسٹمز حکام کو پاکستان میں غیر قانونی طور پر درآمد ہونے والی ایسی تمام اشیا کے حوالے سے جامع سمری تیار کرنے کا حکم بھی دیا۔

سماعت کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور سیکریٹری اطلاعات بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اسے وفاقی کابینہ میں پیش کرنا چاہتی ہے، اس لیے مہلت دی جائے۔

لاہور ہائیکورٹ نے وزارتِ کامرس کو معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 12 نومبر تک ملتوی کردی۔

Related posts