پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے 21 بچے اور ایک ٹیچر جاں بحق، 30 سے زائد زخمی
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع ایک نجی اسکول کی چھت اچانک زمین بوس ہونے کے نتیجے میں 21 بچے جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ ایک خاتون ٹیچر کی لاش بھی اسپتال منتقل کی گئی ہے۔ حادثے میں 30 سے زائد بچے شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ریسکیو اور امدادی ٹیمیں بھاری مشینری کی مدد سے عمارت کے ملبے تلے دبے مزید بچوں اور اسکول عملے کی تلاش کے لیے سرگرم عمل ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ کے مطابق اب تک 21 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا ہے، جبکہ ریسکیو حکام نے تصدیق کی ہے کہ موقع سے 30 سے زائد زخمی بچوں کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کیا جا چکا ہے۔
واقعے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 اور مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا، تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو جلد از جلد باہر نکالا جا سکے۔
صوبائی مشیرِ اطلاعات ثمر ہارون بلور نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو زخمی بچوں کو بہترین اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ریسکیو اہلکاروں کی بروقت کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت ملبے تلے دبے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی ناقص ساخت اور دیکھ بھال کے حوالے سے یہ رواں سال ملک میں پیش آنے والا چوتھا بڑا اور المناک حادثہ ہے۔
اس سے قبل 21 فروری کو سیالکوٹ میں زیرِ تعمیر سرکاری گرلز ہائی اسکول کا شیڈ گرنے سے آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ جاں بحق ہوئی تھی، جبکہ سات مئی کو ڈیرہ غازی خان میں نجی اسکول کے کلاس روم کی چھت گرنے سے چار طلبہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
اس کے علاوہ 30 جون کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے اور دو جولائی کو لاہور ہی کے علاقے باغبانپورہ میں زیرِ تعمیر اسکول کی عمارت کا حصہ گرنے سے ایک آٹھ سالہ بچہ جاں بحق ہوا تھا۔