سلمان خان اصل نشانہ تھے؟ ٹائیگر شروف پر حملے کی تحقیقات میں اہم انکشاف
بھارتی فلم انڈسٹری میں اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے دوران اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ حملہ آوروں کا اصل نشانہ مبینہ طور پر اداکار سلمان خان تھے، تاہم ان کے گھر کے باہر سخت سکیورٹی دیکھ کر حملہ آور پیچھے ہٹ گئے اور بعد میں ٹائیگر شروف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حملہ آوروں نے سلمان خان کی رہائش گاہ کی ریکی بھی کی تھی، لیکن وہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھ کر وہ اپنے منصوبے پر عمل نہیں کر سکے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، اس کے بعد انہوں نے ٹائیگر شروف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق، اتوار کی شام ممبئی کے علاقے جوہو میں پشپا نارسی گراؤنڈ سے فٹ بال کھیلنے کے بعد ٹائیگر شروف روانہ ہو رہے تھے کہ دو افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی، جبکہ ان کا ایک ساتھی کچھ فاصلے پر موٹر سائیکل لے کر موجود تھا۔
حملہ آوروں نے ٹائیگر شروف کو نشانہ بناتے ہوئے سات گولیاں چلائیں اور پھر موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔ بعد میں انہوں نے یہ موٹر سائیکل اندھیری ویسٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب چھوڑ دی اور ٹرین کے ذریعے جے پور روانہ ہوگئے۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو واقعے کے 24 گھنٹے کے اندر پیر کے روز گرفتار کرلیا۔ گرفتار افراد کی شناخت 22 سالہ ہریتک عرف روشن، 18 سالہ ریحان اور 18 سالہ پھول سنگھ کے نام سے ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہریتک کا تعلق بہار جبکہ ریحان اور پھول سنگھ کا تعلق ہریانہ سے ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، تفتیش کے دوران ملزمان نے بتایا کہ وہ ممبئی کسی دوسری اہم شخصیت کو قتل کرنے کے ارادے سے آئے تھے۔ تاہم، متعلقہ شخص کی نقل و حرکت اور ان علاقوں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ ان تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے اپنا ہدف تبدیل کر کے ٹائیگر شروف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہیں مداحوں کی سوشل میڈیا پوسٹس اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ ٹائیگر شروف اتوار کے روز ممبئی کے علاقے جوہو میں واقع ایک فٹ بال گراؤنڈ میں باقاعدگی سے آتے ہیں اور وہاں ان کے ساتھ سکیورٹی بھی نسبتاً کم ہوتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ملزمان ٹائیگر شروف اور ان کے مداحوں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر نظر رکھتے تھے اور ان کی سرگرمیوں کا پتا لگانے کی کوشش کرتے تھے۔ تفتیشی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں کا مقصد اداکار کو قتل کرکے بولی ووڈ میں خوف پھیلانا تھا۔
تازہ انکشافات کے بعد فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ تفتیشی حکام ملزمان کی نقل و حرکت اور حملے سے پہلے کی گئی مبینہ نگرانی کی تحقیقات کررہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آسکیں۔
ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے واقعے کے بعد جیل میں قید گینگسٹر لارنس بشنوئی کے ایک ساتھی انیل پنڈت نے سوشل میڈیا پر جاری آڈیو پیغام میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔
آڈیو پیغام میں انیل پنڈت نے خود کو لارنس بشنوئی کا چھوٹا بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹائیگر شروف کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی ذمہ داری وہ اور ہرمَن سندھو قبول کرتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹائیگر شروف کو پہلے بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن انہوں نے ان کی بات نہیں سمجھی۔ آڈیو پیغام میں سلمان خان سے تعلق رکھنے والے افراد اور ان کے ساتھ کام کرنے والوں کو بھی دھمکیاں دی گئیں۔ اس پیغام میں اسے آخری وارننگ بھی قرار دیا گیا۔
ان مبینہ دھمکیوں کے بعد بولی ووڈ شخصیات کی سکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات کو دھمکیوں اور سکیورٹی سے متعلق واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔