یوکرین اور روس کے ایمرجنسی سسٹم پر ہیکرز کا حملہ، نیوکلئیر حملے کے جعلی الرٹس جاری
یوکرین اور روس میں ہیکرز نے ہنگامی صورتحال سے خبردار کرنے والی سرکاری موبائل ایپس کو نشانہ بناتے ہوئے شہریوں کو فضائی حملوں، کیمیائی حملوں اور جوہری حملے سے متعلق جعلی الرٹس بھیج دیے، جس سے دونوں ممالک میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ حکام نے سائبر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی اطلاعات پر اعتماد کریں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعات رات کے وقت پیش آئے، جب یوکرین اور روس کے شہریوں کو موبائل ایپس کے ذریعے مختلف نوعیت کی ہنگامی وارننگز موصول ہوئیں۔ یوکرین میں ایک جعلی الرٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ روس نے ہائپرسونک اورشینک میزائل داغ دیا ہے، جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ملک میں جوہری خطرے کی وارننگ بھی جاری کی گئیں۔
یوکرین کی فضائیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ایئر ریڈ الرٹ ایپ کو دشمن کی جانب سے ہیک کیا گیا ہے۔ فضائیہ کے مطابق جعلی پیغامات روسی زبان میں بھیجے گئے، حالانکہ یوکرین میں تمام سرکاری اعلانات یوکرینی زبان میں جاری کیے جاتے ہیں۔
یوکرین کی فضائیہ نے شہریوں کو یقین دلایا کہ ملک میں تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ شہری پرسکون رہیں اور سرکاری ٹیلی گرام چینل پر جاری ہونے والی تازہ اطلاعات پر عمل کریں۔
بعد ازاں تمام جعلی الرٹس کے حوالے سے خطرہ ختم ہونے کے پیغامات بھی جاری کردیے گئے۔ یوکرین کی وزارت برائے ڈیجیٹل تبدیلی نے بتایا کہ متاثرہ موبائل ایپ کو عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے، تاہم شہریوں کو خبردار کرنے کے دیگر ذرائع معمول کے مطابق کام کررہے ہیں اور فضائی حملوں سے آگاہ کرنے والے سائرن بھی فعال ہیں۔
کیف میں شہریوں نے اس سائبر حملے پر زیادہ خوف یا پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔ 37 سالہ کاروباری شخص آرٹیم پائنڈک نے بتایا کہ جعلی پیغامات دیکھ کر وہ کچھ دیر کے لیے حیران ہوئے، لیکن جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ غلط اطلاع ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے معاشرے میں وہ ردعمل پیدا نہیں ہوا جس کی ہیکرز توقع کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کو مذاق کے طور پر لیا جاسکتا ہے، لیکن دوسری جانب یہ حقیقت بھی تشویش ناک ہے کہ ہیکرز نے ایپ تک رسائی حاصل کرکے اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
دوسری جانب روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے وزارت برائے ہنگامی حالات کے حوالے سے بتایا کہ روس کی ہنگامی اطلاعات جاری کرنے والی موبائل ایپ بھی سائبر حملے کا نشانہ بنی، جس کے ذریعے شہریوں کو جوہری جنگ اور دیگر خطرات سے متعلق جعلی پیغامات بھیجے گئے۔
یوکرین کے حامی ہیکرز کے گروپ اٹیش نے پیر کی صبح اپنے ٹیلی گرام چینل پر روسی ایپ میں بھیجے گئے جعلی الرٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزارت برائے ہنگامی حالات کی ایپ ہیک کرلی گئی ہے۔
ہیکرز کی جانب سے بھیجے گئے پیغام میں دعویٰ کیا گیا کہ تمام روسی علاقوں کی جانب جوہری وار ہیڈز داغے جاچکے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ تین ہفتوں کے لیے خوراک جمع کرلیں اور اپنے گھروں کے تہہ خانوں میں پناہ لینے کی تیاری کریں۔
جعلی پیغام میں روس کے مختلف علاقوں کے لیے توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کیے گئے تھے اور اس کا انداز سرکاری اعلانات جیسا نہیں تھا۔
تاہم روسی وزارت برائے ہنگامی حالات نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ ایپ عوام کو خبردار کرنے کا بنیادی ذریعہ نہیں بلکہ اضافی معلومات فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ وزارت کے ماہرین ایپ کو دوبارہ معمول کے مطابق فعال کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔
روسی وزارت نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پرسکون رہیں اور صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر اعتماد کریں۔ وزارت کے مطابق مستند اطلاعات اس کی سرکاری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دستیاب ہیں۔
رائٹرز کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دونوں ممالک کی ایپس کو ہیک کرنے کے پیچھے کون سے گروہ ملوث ہیں۔ سائبر سیکیورٹی کے ماہرین ماضی میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران ہونے والے ایسے واقعات میں دونوں جانب کے انٹیلی جنس اداروں اور سرگرم ہیکرز کے ملوث ہونے کے امکانات ظاہر کرتے رہے ہیں۔