ٹرمپ کی مقبولیت وسط مدتی انتخابات سے قبل کم ترین سطح پر آگئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت وسط مدتی انتخابات سے قبل اپنی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ کانگریس کے انتخابات میں ووٹرز کی بڑی تعداد نے ریپبلکن پارٹی کے بجائے ڈیموکریٹس کو ترجیح دی ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز اور عالمی تحقیقی ادارے اِپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق، امریکی ووٹرز میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ریپبلکن پارٹی پر 8 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ سروے میں 46 فیصد افراد نے کہا کہ وہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کو دیکھنا چاہتے ہیں، جبکہ 38 فیصد نے ریپبلکن پارٹی کی حمایت کی۔

تاہم ایک ہفتہ قبل کیے گئے سروے کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کی برتری میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ سروے میں ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر 11 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔

رائٹرز اور اِپسوس کے اس سروے کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا میں منگل کو وسط مدتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

سیاسی ماہرین اور دونوں جماعتوں کی حکمت عملی تیار کرنے والوں کا خیال ہے کہ ڈیموکریٹس کے پاس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے بہتر امکانات ہیں، جہاں تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں۔ تاہم سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنا ڈیموکریٹس کے لیے نسبتاً مشکل دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ انہیں الاسکا اور مشی گن سمیت بعض اہم ریاستوں میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ان انتخابات میں امیدوار نہیں ہیں، لیکن انتخابی مہم میں ان کی شخصیت اور حکومتی کارکردگی اہم موضوع بن چکی ہے۔ سروے کے مطابق، صرف 32 فیصد امریکی شہریوں نے صدر ٹرمپ کی بطور صدر کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ یہ شرح ایک ہفتہ پہلے بھی اتنی ہی تھی اور دو ہفتے قبل ان کی مقبولیت 31 فیصد کی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

سروے میں آزاد خیال یا کسی بڑی سیاسی جماعت سے وابستہ نہ ہونے والے ووٹرز کی رائے بھی سامنے آئی۔ رجسٹرڈ ووٹرز میں شامل ایسے افراد میں سے 50 فیصد نے کہا کہ کانگریس کے انتخابات میں ان کا ووٹ دراصل ٹرمپ کے خلاف ہوگا، جبکہ 13 فیصد نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی حمایت میں ووٹ دیں گے۔ مزید 33 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ ووٹ ڈالتے وقت ٹرمپ ان کے فیصلے پر اثر انداز ہونے والا عنصر نہیں ہوں گے۔

امریکی شہریوں کے لیے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافہ بھی انتخابات کا ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ سروے میں 78 فیصد ووٹرز نے کہا کہ زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات ان کے ووٹ کے فیصلے میں انتہائی اہم یا سب سے اہم معاملہ ہوں گے۔

جب ووٹرز سے پوچھا گیا کہ مہنگائی اور اخراجات کے معاملے پر کون سی جماعت بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے تو 43 فیصد نے ڈیموکریٹس جبکہ 32 فیصد نے ریپبلکنز کے حق میں رائے دی۔

دوسری جانب انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حوالے سے ڈیموکریٹک ووٹرز زیادہ پُرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔ سروے کے مطابق، ڈیموکریٹس کے 49 فیصد ووٹرز نے کہا کہ وہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے انتہائی پُرجوش ہیں، جبکہ ریپبلکن ووٹرز میں یہ شرح 33 فیصد رہی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو امید ہے کہ ووٹرز کا یہ جوش انتخابی نتائج میں اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

رائٹرز اور اِپسوس کے اس تازہ سروے میں امریکا بھر سے 1 ہزار 765 بالغ افراد کی آن لائن رائے حاصل کی گئی۔ سروے میں غلطی کی ممکنہ شرح 2 فیصد پوائنٹس بتائی گئی ہے۔

Related posts