امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں عرب اور مسلمانوں کے 7 نئے نمائندے کون ہیں؟

امریکا میں منعقد ہونے والے 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج میں مسلم امریکی شخصیات نے شاندار اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے تاریخ رقم کر دی ہے، جہاں مجموعی طور پر سات مسلم امیدوار امریکی کانگریس کی نشستوں پر فاتح قرار پائے ہیں۔

ان انتخابی نتائج میں سب سے اہم اور تاریخی پیش رفت امریکا کی تاریخ میں پہلے مسلم سینیٹر کا انتخاب ہے، جس کے ساتھ ہی دنیا کے اہم ترین قانون ساز ادارے کے اندر عرب اور مسلم کمیونٹی کی نمائندگی مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

ان کامیابیوں کی ساخت کے مطابق سات نشستیں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے درمیان تقسیم ہوئی ہیں، جن میں سے ایک رکن سینیٹ اور چھ اراکین ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔

کامیاب ہونے والے قانون سازوں میں مصری اور فلسطینی نژاد تین عرب امریکی شامل ہیں، جبکہ دیگر اراکین کا تعلق صومالیہ، افریقہ اور ڈومینیکن پس منظر سے ہے۔

ریاست مشی گن سے پیشے کے لحاظ سے معالج اور پبلک ہیلتھ کے ماہر ڈیموکریٹ عبدالرحمان السید المعروف ’عبدل السید‘ نے ریپبلکن امیدوار مائیک روجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی نشست اپنے نام کی، جس کے بعد وہ امریکی سینیٹ کے رکن بننے والے پہلے مسلمان بن گئے ہیں۔

ایوانِ نمائندگان کے نتائج میں نیو جرسی سے مصری نژاد امریکی معالج اور سابق ملٹری سرجن ڈاکٹر آدم حماوی نے فتح حاصل کر کے کانگریس میں نیو جرسی کی نمائندگی کرنے والے پہلے مسلمان کا اعزاز حاصل کیا۔ ڈاکٹر آدم حماوی نے 2024 کے دوران غزہ میں زخمیوں کے علاج کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دی تھیں۔

اسی طرح ریاست مشی گن سے فلسطینی نژاد امریکی رشیدہ طالب اور ریاست منیسوٹا سے صومالی نژاد امریکی الہان عمر نے اپنے اپنے حلقوں سے مسلسل پانچویں بار شاندار کامیابی حاصل کی، جبکہ انڈیانا سے ایوانِ نمائندگان کے سب سے سینئر مسلم قانون ساز آندرے کارسن نے بھی اپنی نشست برقرار رکھی۔

دیگر اہم نشستوں میں ریاست کیلیفورنیا سے شہری حقوق کی فعال رکن لطیفہ سائمن دوبارہ منتخب ہوئیں، جبکہ نیویارک کے حلقے سے نو مسلم ڈومینیکن نژاد انسانی حقوق کی کارکن داریالیزا ابیلا شوفالیے نے تجربہ کار ڈیموکریٹ نمائندے ادریانو اسپائیت کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی، جو طلبہ تحریکوں اور فلسطینیوں کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کے پس منظر سے ابھر کر سامنے آئی ہیں۔

مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے ان اراکین کی کامیابی امریکی سیاست میں مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور قانون ساز اداروں میں نمائندگی کے نئے دور کی نشاندہی کرتی ہے۔

Related posts