لاہورہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کو محمد رضوان کو ہراساں کرنے سے روک دیا
لاہور ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کو ہراساں کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے کرکٹر کو این سی سی آئی اے کی جاری انکوائری میں پیش ہونے اور تعاون کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
پیر کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے قومی کرکٹر محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف درخواست مسترد کرنے کا 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
تحریری فیصلے کے مطابق محمد رضوان کی جانب سے این سی سی آئی اے کی جاری انکوائری کے خلاف دائر درخواست قابل قبول نہیں تاہم عدالت نے تحقیقاتی ادارے کو ہدایت کی ہے کہ انکوائری قانون اور ضابطے کے مطابق مکمل کی جائے۔
عدالت نے محمد رضوان کو بھی این سی سی آئی اے کی جاری انکوائری میں پیش ہونے اور تفتیشی عمل میں تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ این سی سی آئی اے کی انکوائری ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور موجودہ صورت حال میں یہ عدالتی مداخلت کی متقاضی نہیں۔ عدالت کے مطابق رضوان کے خلاف جاری انکوائری میں فی الحال بدنیتی یا دائرہ اختیار سے تجاوز ثابت نہیں ہوا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ کسی شخص کو جاری کیا گیا کال اَپ نوٹس بذات خود اسے قصوروار قرار دینے کے مترادف نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کو محمد رضوان کو غیر ضروری زحمت یا ہراساں کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید کارروائی کی ضرورت کا تعین کیا جائے گا۔
فیصلے کے مطابق اگر انکوائری کے حتمی نتائج پر محمد رضوان کو اعتراض ہو تو وہ مناسب قانونی فورم سے رجوع کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ محمد رضوان اور امام الحق کو این سی سی آئی اے نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے حالیہ دورۂ انگلینڈ کے دوران مبینہ ڈریسنگ روم معلومات کے لیک ہونے سے متعلق تحقیقات میں طلب کیا تھا۔ دونوں کھلاڑیوں سے انگلینڈ میں پریکٹس سیشنز اور میچز کے دوران ان کے رابطوں اور ملاقاتوں سے متعلق بھی سوالات کیے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے دونوں کرکٹرز کے موبائل فونز این سی سی آئی اے کو فراہم کیے، جن کا تکنیکی اور فرانزک تجزیہ کیا گیا۔ تحقیقات میں مبینہ ڈریسنگ روم لیکس کے ساتھ ساتھ مالی معاملات اور مشتبہ لین دین سے متعلق معلومات بھی دیکھی جا رہی ہیں تاہم دستیاب رپورٹس کے مطابق این سی سی آئی اے نے دونوں کھلاڑیوں کے خلاف کسی الزام کو حتمی طور پر ثابت نہیں کیا۔
10 ستمبر کو دونوں کرکٹرز لاہور میں این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیش ہوئے اور تقریباً دو گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔ ذرائع کے مطابق دونوں نے اپنے تحریری جوابات جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آغاز 19 اگست کو لیڈز سے ہوا۔ پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دی۔ اس میچ میں امام الحق نے پہلی اننگز میں 42 رنز بنائے جب کہ محمد رضوان 12 رنز بنا سکے۔
دوسرا ٹیسٹ 27 اگست کو لارڈز میں شروع ہوا جہاں انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 2-0 کی ناقابل شکست برتری حاصل کرلی۔
لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے 7 کھلاڑیوں کو ٹیسٹ اسکواڈ سے ریلیز کردیا، جن میں محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد شامل تھے۔ پی سی بی نے اس فیصلے کی باضابطہ وجہ بیان کرتے ہوئے صرف یہ کہا تھا کہ 7 کھلاڑیوں کو لارڈز ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد اسکواڈ سے ریلیز کیا گیا ہے۔ اسی دوران امام الحق لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز بائیں پنڈلی کی انجری کا شکار بھی ہوئے تھے۔
پی سی بی نے تیسرے ٹیسٹ سے قبل ریڈ بال ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی اسکواڈ سے الگ کردیا جب کہ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو بیک روم اسٹاف میں شامل کیا گیا۔
بعد ازاں پی سی بی نے کھلاڑیوں کے نظم و ضبط اور طرز عمل سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد داخلی تادیبی انکوائری شروع کرنے کی تصدیق کی۔ اسی پس منظر میں ڈریسنگ روم سے مبینہ معلومات کے اخراج کا معاملہ سامنے آیا اور این سی سی آئی اے نے رضوان اور امام الحق کو طلب کیا۔
این سی سی آئی اے میں رضوان اور امام الحق سے پوچھ گچھ ہوچکی ہے اور ان کے موبائل فونز سمیت دیگر معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حتمی نتائج کی روشنی میں پی سی بی دونوں کھلاڑیوں سے متعلق آئندہ کارروائی کا فیصلہ کرے گا۔
خیال رہے کہ محمد رضوان نے این سی سی آئی اے کی کارروائی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے انکوائری میں تعاون کی ہدایت کردی ہے۔ عدالت نے ساتھ ہی این سی سی آئی اے کو انکوائری قانون اور ضابطے کے مطابق مکمل کرنے اور رضوان کو غیر ضروری طور پر ہراساں نہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔