‘آپریشن جا بریکر’: سی آئی اے کا خفیہ مشن جس نے افغانستان میں جنگ کی بنیاد رکھی
امریکا میں نائن الیون کے حملوں کو 25 سال مکمل ہونے پر ’سی آئی اے‘ ہیڈکوارٹر میں ایک اہم ترین خفیہ مشن میں استعمال ہونے والے روسی ہیلی کاپٹر کو رنگ و روغن کے بعد نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ وہی خفیہ مشن ہے جس نے امریکا اور نیٹو افواج کے افغانستان میں طویل ترین جنگ کے لیے داخلے کی راہ ہموار کی تھی۔
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، نائن الیون حملوں کے محض 15 روز بعد یعنی 26 ستمبر 2001 کو امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ نے ایک خفیہ مشن شروع کیا تھا جسے ’جا بریکر‘ نام دیا گیا تھا۔ یہ افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف شروع کیا گیا سب سے پہلا امریکی مشن تھا اور سی آئی اے کی تاریخ کا سب سے کامیاب دفاعی آپریشن مانا جاتا ہے۔
اس ٹیم کی قیادت سی آئی اے کے تجربہ کار افسر گیری شروین کر رہے تھے، جنہوں نے اس مشن کے لیے اپنی ریٹائرمنٹ مؤخر کر دی تھی۔ سی آئی اے کے 7 افسران کے علاوہ اس مشن میں فضائی عملے کے 3 ارکان اور 2 افغان بھی شامل تھے۔
26 ستمبر 2001 کو شروع ہونے والے اس مشن کی انوکھی بات یہ تھی کہ سی آئی اے کی یہ ٹیم اپنے ساتھ سوٹ کیسوں میں لاکھوں ڈالر نقد امریکی ڈالرز کے ہمراہ روسی ساختہ ’ایم آئی-17‘ ہیلی کاپٹر کے ذریعے افغانستان کی وادی پنجشیر میں اتری تھی۔
اس لاکھوں ڈالرز کی نقد رقم کا مقصد طالبان مخالف افغان کمانڈروں اور جنگجوؤں کو اپنے ساتھ ملانا، انہیں ہتھیار اور ضروری سامان فراہم کرنا تھا جب کہ امریکی مشن کا اصل مقصد انٹیلی جنس معلومات جمع کرنا اور القاعدہ و طالبان کے خلاف متوقع امریکی مہم کے لیے گراؤنڈ تیار کرنا تھا۔
اس مہم میں افغانستان میں طالبان کے سخت ترین مخالف گروہ ’شمالی اتحاد‘ کے ساتھ تعلقات استوار کرنا بھی شامل تھا، جس کے کمانڈر احمد شاہ مسعود کو نائن الیون سے صرف دو روز قبل قتل کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ اتحاد بکھر رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس مشن میں امریکی ساختہ ہیلی کاپٹر کے بجائے روسی ساختہ ’ایم آئی-17‘ ہیلی کاپٹر کا استعمال بھی ایک خاص حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا تھا۔
سی آئی اے کے مؤرخ روب بائر کے مطابق امریکی انٹیلی جنس نے 90 کی دہائی میں یہ ہیلی کاپٹر اس لیے حاصل کیا تھا کیوں کہ یہ روسی ہیلی کاپٹر اس خطے میں ہیلی کاپٹروں کی دنیا کے ’پک اپ ٹرک‘ کی حیثیت رکھتے تھے۔ شمالی اتحاد اور طالبان دونوں ہی ’ایم آئی-17‘ استعمال کرتے تھے، اس لیے دشمن کے علاقے میں اس کا استعمال شناخت چھپانے میں مددگار ثابت ہوسکتا تھا۔
روب بائر کے مطابق ’امریکی بلیک ہاک اُڑانے کے بجائے ’ایم آئی 17‘ حاصل کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ مقامی ماحول میں آسانی سے گھل مل جاتا ہے اور جب آپ دشمن کی صفوں میں جا رہے ہوں تو آپ کی سب سے اہم کوشش یہی ہوتی ہے کہ آپ کو آسانی سے پہچانا نہ جا سکے۔‘
امریکی مشن ’جا بریکر‘ کی ٹیم کو افغانستان کی وادی پنجشیر تک پہنچنے کے لیے سطح سمندر سے تقریباً ساڑھے 14 ہزار فٹ بلند ’درہ انجمن‘ عبور کرنا تھا۔ یہ ہیلی کاپٹر اس لیے بھی موزوں تھا کہ یہ انتہائی بلندی اور سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
تاہم اس ہیلی کاپٹر میں ایک مسئلہ یہ تھا کہ روسی ساختہ ہونے کی وجہ سے اس طیارے میں امریکی جنگی جہازوں کو اپنی شناخت بتانے کے لیے کوئی ٹرانسپونڈر نصب نہیں تھا۔ لہٰذا امریکی خفیہ مشن نے اس کا حل یوں نکالا کہ ہیلی کاپٹر کے اوپری حصوں پر ’USA‘ لکھا اور ایک امریکی پرچم پینٹ کر دیا تاکہ فضا میں موجود اتحادی پائلٹس اسے دیکھ سکیں لیکن زمین پر موجود دشمن کی نظروں سے یہ پوشیدہ رہے۔ اس ہیلی کاپٹر نے 2012 تک افغانستان میں 300 سے زائد مشنز میں حصہ لیا۔
امریکی ریاست ورجینیا میں واقع سی آئی اے ہیڈ کوارٹرز میں یہ ہیلی کاپٹر آج بھی یادگار کے طور پر موجود ہے جہاں اسے نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ٹیم تقریباً ایک ماہ تک افغانستان میں بالکل اکیلی کام کرتی رہی اور کئی مقامی کمانڈروں کا اعتماد جیتنے اور بعد میں آنے والی امریکی افواج کے ساتھ مل کر طالبان اور القاعدہ کو مضبوط ٹھکانوں سے پیچھے دھکیلنے کے لیے تیار کرتی رہی۔
ایک ماہ بعد سی آئی اے نے اس مشن کے لیے اسی ہیلی کاپٹر کا استعمال کرتے ہوئے ’الفا‘ کے نام سے ایک اور ٹیم افغانستان بھیجی۔ اس ٹیم میں سی آئی اے کے وسطی ایشیائی امور اور زبانوں کے ماہر ڈیوڈ ٹائیسن بھی شامل تھے۔
ڈیوڈ ٹائسن کی تعینانی کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ انہیں ازبک، ترکمن اور روسی سمیت کئی مقامی زبانوں پر عبور حاصل تھا اور افغانستان میں موجود طالبان مخالف دھڑے رابطہ کاری میں یہی زبانیں استعمال کرتے تھے۔ ان کا مشن افغان کمانڈر عبدالرشید دوستم کی ازبک فورسز کے ساتھ تال میل قائم کرکے طالبان کے خلاف انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنا تھا۔
ڈیوڈ ٹائیسن نے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو میں بتایا کہ اس مشن کے دوران انہوں نے ساتھیوں اور افغان جنگجوؤں کے ہمراہ دشوار گزار پہاڑوں پر گھوڑوں پر سوار ہو کر سفر کیے اور کئی مرتبہ روزانہ 14 گھنٹے تک کا سفر بھی کیا۔
نومبر 2001 کے آخر تک شمالی افغانستان کے بیشتر حصوں پر طالبان کی گرفت کمزور ہونا شروع ہو چکی تھی، سینکڑوں جنگجو ہتھیار ڈال چکے تھے، جنہیں مزار شریف کے قریب واقع 19ویں صدی کے ’قلعہ جنگی‘ میں قید کیا گیا تھا۔
تاہم کچھ ہی روز بعد ایک ایسا موڑ آیا جس نے اس پورے مشن کو بدل کر رکھ دیا۔ 25 نومبر کو ٹائیسن اور ان کے ساتھی سی آئی اے افسر مائیک اسپین قیدیوں کی شناخت کے لیے قلعے میں موجود تھے، اسی دوران قیدیوں نے بغاوت کر دی اور بھگدڑ کے نتیجے میں 32 سالہ سی آئی اے افسر مائیک اسپین افغان ہلاک ہوگئے۔ یہ افغان جنگ میں امریکی کا پہلا جانی نقصان تھا۔
ڈیوڈ ٹائسن نے اسی بھگدڑ میں جان بچانے کے لیے مائیک اسپین کی رائفل کا استعمال کرتے ہوئے اپنی جان بچائی۔ مائیک اسپین کی وہ رائفل اور ڈیوڈ ٹائیسن کے جوتے بھی سی آئی اے کے میوزیم میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔
سی آئی اے کا مشن ’جا بریکر‘ اپنے ابتدائی عسکری اور انٹیلی جنس مقاصد حاصل کرنے میں غیر معمولی طور پر کامیاب رہا اور اسی مشن نے افغانستان میں جنگ کا رخ طے کیا۔

سی آئی اے کی ٹیموں نے شمالی اتحاد کے جنگجوؤں کو فنڈز، جدید امریکی ہتھیار اور سب سے بڑھ کر امریکی ایئوسپورٹ فراہم کی۔ اس مشترکہ طاقت کے سامنے طالبان اور القاعدہ کے حوصلے پست ہو گئے۔ مشن شروع ہونے کے چند ہفتوں بعد ہی نومبر اور دسمبر 2001 تک مزارِ شریف، کابل اور قندھار سمیت افغانستان کے تمام بڑے شہر طالبان کے کنٹرول سے نکل گئے اور طالبان حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق مائیک اسپین کی بیوہ اور ڈیوڈ ٹائیسن اب ’بیجر سکس‘ نامی ایک این جی او چلا رہے ہیں۔ یہ تنظیم ان افغان جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں (تقریباً 35 خاندانوں) کی کفالت اور آباد کاری میں مدد کر رہی ہے جنہوں نے ٹیم الفا کے ساتھ کام کیا تھا۔