صومالیہ جہاز آپریشن: جاں بحق اور زخمیوں کی واپسی کیلئے اقدامات شروع کردیے: پاکستان

پاکستان نے صومالیہ کے ساحل پر قزاقوں کے خلاف آپریشن کے دوران یرغمال پاکستانی شہریوں اور زخمیوں کی وطن واپسی کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔ دوسری جانب جاں بحق پاکستانیوں کے لواحقین نے حکومت سے کارروائی نہ کرنے کا شکوہ کرتے ہوئے ان کے پیاروں کی میتیں وطن واپس لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کے روز دفتر خارجہ کے ترجمان نے صومالیہ میں بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 پر سوار پاکستانی شہریوں کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس کیا۔ گزشتہ روز صومالیہ کے ساحل پر یرغمال بحری جہاز MT Honour 25 کی بازیابی کے دوران 5 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

دفتر خارجہ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 3 پاکستانی شہری رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری شامل ہیں، جن کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ واقعے میں 4 افراد زخمی ہوئے، جن میں 3 پاکستانی ہے، زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق زندہ بچ جانے والے عملے کو بحفاظت بندر بیلا اور صومالیہ پہنچا دیا گیا جب کہ جبوتی میں پاکستانی سفارت خانے کی ٹیم پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے بندر بیلا روانہ ہوگئی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان پاکستانی شہریوں کی محفوظ واپسی اور جاں بحق افراد کی میتوں کی منتقلی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور اس حوالے سے صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

دوسری جانب واقعے کے بعد کراچی میں جاں بحق پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ کئی ماہ سے اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے آواز اٹھاتے رہے تاہم ان کے مطابق کوئی مؤثر پیش رفت نہ ہوسکی۔

رفیع اللہ کے بھائی نے بتایا کہ ان کا بھائی تقریباً 10 ماہ سے جہاز پر موجود تھا اور گزشتہ 6 ماہ سے قزاقوں کے قبضے میں تھا۔ ان کے مطابق انہیں رفیع اللہ کی شہادت کی اطلاع میڈیا اور جہاز کے کپتان کے ذریعے ملی۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے پیاروں کی شہادت کی اطلاع انتہائی تاخیر سے ملی اور واقعے کے بعد بھی کسی حکومتی نمائندے نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سفارتی سطح پر فوری اقدامات کرتے ہوئے شہدا کی میتیں جلد از جلد پاکستان لائی جائیں تاکہ ان کی آخری رسومات ادا کی جاسکیں۔

اہل خانہ کے مطابق بحری جہاز کو قزاقوں نے تقریباً 5 ماہ 10 روز قبل اغوا کیا تھا اور جہاز عمان سے صومالیہ جارہا تھا۔ قزاقوں کے قبضے میں رہنے کے دوران پاکستانی عملے نے مشکلات کا سامنا کیا۔

رفیع اللہ کے بھائی کے مطابق انہیں اپنے بھائی کی شہادت کی اطلاع میڈیا اور جہاز کے کپتان سے ملی جب کہ شہید کاشف عمر نے اپنی آخری ویڈیو میں جہاز پر درپیش مشکلات سے آگاہ کیا تھا۔

لواحقین نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور صدر آصف علی زرداری سے اپیل کی ہے کہ جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن واپس لانے کے لیے سفارتی سطح پر فوری اقدامات کیے جائیں۔

Related posts