خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج: وزیراعظم سے اسپیکر ایاز صادق کی اہم ملاقات

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف سے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ملاقات کی، جس میں اہم آئینی، قانونی اور پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری طرف وزیراعظم کی زیرصدارت مشاورتی اجلاس میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کیا گیا اور کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف سے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ملاقات کی، جس میں اہم آئینی، قانونی اور پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن سے ہونے والے پس پردہ رابطوں اور پیپلز پارٹی کے وفد سے اپنی ملاقات کی تفصیلات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا جب کہ ملاقات میں قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس کی طلبی سے متعلق بھی بات چیت ہوئی۔

خیبرپختونخوا کی موجودہ صورت حال اور ممکنہ آئینی اقدامات کے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے حوالے سے جلد اہم فیصلہ متوقع ہے۔

وزیراعظم کا تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

دوسری جانب خیبرپختونخوا کی سیاسی اور امن و امان کی صورت حال پر وفاقی حکومت میں مشاورت تیز ہوگئی، وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے شرکت کی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس کو خیبرپختونخوا سمیت ملک میں امن و امان کی صورت حال پر بریفنگ دی جب کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صوبے سے متعلق آئینی اور قانونی امور سے آگاہ کیا۔ وزیر داخلہ نے تحریک انصاف کی قیادت سے ہونے والے پس پردہ رابطوں کے بارے میں بھی وزیراعظم کو اعتماد میں لیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا کی موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے مختلف آئینی و قانونی آپشنز پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ کسی بھی اقدام سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں خیبرپختونخوا کی صورت حال اور ممکنہ آئینی اقدامات پر مشاورت کی جائے گی۔

آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی زیرغور، طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کر رہی ہے اور اس کی وجہ سیاسی صورت حال یا لانگ مارچ نہیں بلکہ سیکیورٹی مسائل ہیں۔

میڈیا سے گفتگو میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورت حال پر وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تشویش ہے۔ ان کے مطابق وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تعاون کی کمی بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ اور چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کسی کو دینے سمیت مختلف امکانات پر غور کیا جارہا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کا مختلف مؤقف

دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسپیکر چیمبر میں ہونے والے اجلاس سے متعلق کہا کہ وہاں قانون سازی سے متعلق امور پر بات ہوئی۔

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق اسپیکر چیمبر کے اجلاس میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی جماعت ہے اور اسے اہم معاملات پر اعتماد میں لیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کا ردعمل

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے گورنر راج کے ممکنہ نفاذ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے خیبرپختونخوا میں تناؤ اور نفرت بڑھے گی اور حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے تو جاری ہیں لیکن بدقسمتی سے مقصد کی کوئی بات نہیں ہورہی۔

پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت گورنر راج لگانا چاہتی ہے تو لگا دے، انہیں اس پر کوئی پریشانی نہیں۔ ان کے مطابق عملی طور پر بھی وفاق نے صوبے میں اپنا راج قائم کر رکھا ہے۔

اسد قیصر نے کہا کہ گورنر راج کا نفاذ وفاقی حکومت کے اپنے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔ انہوں نے ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ وہ اس معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے بات کریں گے۔

حکومت کا خیبرپختونخوا کی کارکردگی پر مؤقف

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں گورننس کی ناکامی واضح ہے۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی روکنے میں ناکام رہی ہے جبکہ صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں بھی صورت حال خراب ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سیاسی طور پر اس پوزیشن میں نہیں کہ لانگ مارچ کرسکیں۔

تاہم اس سے قبل عطاء اللہ تارڑ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی بات کرنا قبل ازوقت ہے اور وہ قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کریں گے۔

پی ٹی آئی کے اندر بھی لانگ مارچ پر اختلافات

پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنا چھوٹا بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا دفاع کریں گے۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے ان کے خط کو پھاڑنے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ نامزد کیا تھا۔

شوکت یوسفزئی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ میں سب سے آگے رہنے کا اعلان بھی کیا۔

دوسری جانب شیر افضل مروت نے خیبرپختونخوا حکومت کی لانگ مارچ کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے حلقوں میں بھی مہم نہیں چلا سکتی اور 11 ماہ ضائع کرچکی ہے۔

شرجیل میمن کا مذاکرات پر زور

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے وفاقی حکومت کو پی ٹی آئی سے بات چیت کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے سیاسی جماعت بننا ہے یا ڈنڈے کے زور پر چلنا ہے۔ شرجیل میمن کے مطابق پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کو عدالتوں سے ریلیف لینا ہوگا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کی صورت حال پر مشاورت ایسے وقت میں ہورہی ہے جب صوبے میں امن و امان اور سیاسی کشیدگی کے ساتھ پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مختلف آئینی اور قانونی راستوں پر غور جاری ہے جب کہ حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

Related posts