محمد رضوان این سی سی آئی اے میں پیش، ساڑھے 3 گھنٹے تک پوچھ گچھ
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی (این سی سی آئی اے) میں پیش ہوگئے، جہاں ساڑھے 3 گھنٹے سے زائد وقت تک تفتیشی ٹیم نے ان سے سوالات کیے اور موبائل فیس ریزیگینشن بھی کی گئی۔
قومی کرکٹر محمد رضوان آج دوپہر 2 بج کر 50 منٹ پر این سی سی آئی اے کے آفس اپنی گاڑی پر پہنچے جب کہ ان کی گاڑی میں 2 افراد اور بھی تھے۔
محمد رضوان سے 4 رکنی تفتیشی ٹیم نے مختلف سوالات کیے تاہم وہ ان سوالات کے بڑے اطمینان کے ساتھ جوابات دیتے رہے۔ اس دوران موبائل کی ڈیپلی فرانزک کے لیے فیس ریزیگینیشن بھی کروائی گئی جب کہ انہیں این سی سی آئی اے نے موبائل کی فیس ریزیگینیشن کے لیے بلوایا تھا۔
تفتیشی ٹیم نے ساڑھے 6 بجے اپنے سوالات کرنے کے بعد محمد رضوان کو جانے دیا، جس کے بعد وہ این سی سی آئی اے کے آفس سے باہر نکلے تو اس دوران میڈیا نے ان سے بات چیت کرنے کی کوشش کی اور پوچھا کہ تفتیشی ٹیم نے ساڑھے 3 گھنٹے تک آپ سے کیا سوالات کیے۔ جس پر محمد رضوان کا کہنا تھا کہ میں اس حوالے سے گونگا ہوں، مجھے جانیں دیں، مجھے بھوک لگی ہوئی ہے۔
جب محمد رضوان سے سوال کیا گیا کہ آپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا جس پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے بہت پیار ملا، جس کے بعد وہ اپنی گاڑی 2 دوست ہمراہ واپس چلے گئے۔
محمد رضوان کے خلاف معاملہ کیا ہے؟
محمد رضوان اور این سی سی آئی اے کے درمیان معاملہ پاکستان کے حالیہ دورہ انگلینڈ کے دوران شروع ہوا۔ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد این سی سی آئی اے نے رضوان کا موبائل فون تحویل میں لیا تھا۔ ادارے کی جانب سے اس معاملے میں آن لائن بیٹنگ، جوئے اور ڈریسنگ روم کی معلومات کے مبینہ افشا سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلی۔ پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو اننگز اور 103 رنز سے شکست دی جب کہ لارڈز میں دوسرا ٹیسٹ 194 رنز سے جیت کر انگلینڈ نے سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
دوسرے ٹیسٹ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد رضوان سمیت 7 کھلاڑیوں کو تیسرے ٹیسٹ کے لیے اسکواڈ سے ریلیز کردیا۔ ان کھلاڑیوں میں امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد بھی شامل تھے۔ اسی دوران کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلی کی گئی اور سرفراز احمد اور عمر گل کو ریلیز کرکے مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو ذمہ داریاں دی گئیں۔
بعد ازاں 10 ستمبر کو محمد رضوان اور امام الحق این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوئے۔ ذرائع کے مطابق دونوں سے ڈریسنگ روم کی معلومات کے مبینہ افشا کے معاملے میں پوچھ گچھ کی گئی۔
محمد رضوان نے این سی سی آئی اے کو تحریری جواب بھی بھجوایا اور ادارے سے پوچھا کہ انہیں طلب کرنے کی وجہ کیا ہے جب کہ موبائل فون واپس نہ کیے جانے اور مبینہ خلاف ورزی سے متعلق وضاحت بھی طلب کی۔
بعد میں رضوان نے لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا۔ عدالت نے انہیں پہلے این سی سی آئی اے کے نوٹس کا تحریری جواب دینے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں عدالت نے این سی سی آئی اے کو رضوان کو ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے انہیں تحقیقات میں تعاون کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی شخص کو جاری کیا جانے والا کال اپ نوٹس بذات خود کسی غلط کاری کے الزام کے مترادف نہیں ہوتا۔
یکم اکتوبر کو محمد رضوان نے تصدیق کی تھی کہ وہ 2 اکتوبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوں گے اور ادارے سے تحریری طور پر تحقیقات کے دائرہ کار کی وضاحت بھی طلب کی تھی۔
اب این سی سی آئی اے میں رضوان کی تازہ پیشی کے دوران ان سے پوچھ گچھ کے ساتھ موبائل فون کی فرانزک جانچ کے لیے فیس ریکگنیشن کا عمل بھی مکمل کیا گیا ہے۔