خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کس کے دور میں آئی؟ خواجہ آصف کا سہیل آفریدی کو مناظرے کا چیلنج

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو بسانے کے سب سے بڑے حامی تھے، اسمبلی تقاریر اور میڈیا کا ریکارڈ اس کا گواہ ہے، انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو اس معاملے پر ٹی وی مناظرے کا چیلنج بھی دے دیا۔

اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی بانی پی ٹی آئی کے دور میں آئی اور وہ صوبے میں دہشت گردوں کو بسانے کے سب سے بڑے حامی تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی تقاریر اور میڈیا کا ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے، اس معاملے پر ان کے ساتھ ٹی وی پر مناظرہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی قیادت شہری شہدا کے گھروں میں فاتحہ خوانی کے لیے جانے سے بھی انکاری ہے، فوجی شہدا کی بات تو رہنے دیں، کیا کسی ایک سویلین شہید کے گھر بھی فاتحہ کے لیے گئے ہیں؟

وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ وفاق سے اقتدار جانے کے بعد خیبرپختونخوا کے ہر وزیراعلیٰ نے وفاق پر حملہ کیا جب کہ 9 مئی کا واقعہ اس کے علاوہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کی قیادت سرکاری مال خود بھی لوٹتی ہے اور دہشت گردوں کو بھتے کی صورت میں حصہ دیتی ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ دہشت گردوں کے پارٹنر ہیں اور خیبرپختونخوا میں بہنے والے خون سے آپ کے ہاتھ بھی رنگے ہیں، قوم اور خدا آپ سے حساب لے گا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اسلام آباد وطن کی وحدت اور وفاق کی علامت ہے اور 25 کروڑ پاکستانیوں کی شناخت ہے، ہمارے شہدا اپنے مقدس خون سے اس کی آبیاری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک سال قبل اپنے ازلی دشمن کا غرور مٹی میں ملایا، پاکستانی عوام اور بہادر افواج اندرونی و بیرونی دشمنوں سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں، ان شاء اللہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔

عطا تارڑ کی خیبرپختونخوا حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ

دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مذاکرات اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے مؤقف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا تمام جماعتوں سے مشاورت نہ ہونے کا پرانا جواز اپنی مدت پوری کرچکا ہے۔

عطا تارڑ نے سلمان اکرم راجا کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ وفاق نے 3 سال میں مشترکہ حکمت عملی کی متعدد تجاویز دیں لیکن پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کی تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا، اب خیبرپختونخوا حکومت سیاسی طور پر کمزور ہوئی تو وفاق کی مشترکہ انسداد دہشت گردی تجاویز پر جواب دینا شروع کیا۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا دہشت گردی سے متعلق بیانیہ دہشت گردوں کے حق میں ہے، خیبرپختونخوا حکومت کی پالیسی صوبے میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، خیبرپختونخوا حکومت وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کیوں نہیں کرتی؟ خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے جائزے کے لیے اپنی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کیوں نہیں بلائے؟

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور کابینہ افغان طالبان حکومت کی پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟پی ٹی آئی رہنما ٓدہشت گردی کے خلاف جانیں قربان کرنے والی مسلح افواج اور پولیس کی کھل کر حمایت کیوں نہیں کرتے؟ خیبرپختونخوا حکومت نیشنل ایکشن پلان، شہدا کی نماز جنازہ میں شرکت اور سیکیورٹی اہلکاروں سے اظہار یکجہتی کیوں نہیں کرتی؟۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ یہ لوگ اپنی بات سے مکر جائیں گے، یہ لوگ ہمیشہ ہی یو ٹرن لیتے ہیں، ان کا کام دہشت گردوں کو پروان چڑھانا ہے، انہوں نے کبھی دہشت گردوں کی مذمت نہیں کی۔

وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان کی پالیسی دہشت گردوں کو آگے بڑھانے کی ہے، ان کے سر پر ایک ہی دھن سوار ہے کہ قیدی کو رہا کرو، قیدی کو رہا کرو، خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی پھیلانے کی ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے ڈرون حملوں اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر پی ٹی آئی خاموش کیوں رہتی ہے؟مشاورت اور جرگوں کا بیانیہ صرف تاخیری حربہ ہے، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

Related posts