فیفا ورلڈ کپ 2034: سعودی عرب نے نیوم پروجیکٹ کے تحت جدید اسٹیڈیم کی تعمیر خاموشی سے روک دی
سعودی عرب نے 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کے لیے نیوم میں تعمیر کیے جانے والے ایک بڑے اور مستقبل طرز کے اسٹیڈیم کا منصوبہ مبینہ طور پر غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ نیوم کے مرکزی منصوبے ’’دی لائن‘‘ میں تاخیر اور اس کے حجم میں کمی کے بعد کیا گیا ہے۔
نیوم اسٹیڈیم کو سعودی عرب کے سب سے بڑے اور جدید تعمیراتی منصوبوں میں شامل کیا گیا تھا۔ منصوبے کے مطابق تقریباً 46 ہزار نشستوں پر مشتمل یہ اسٹیڈیم ’’دی لائن‘‘ نامی تقریباً 160 کلومیٹر طویل اسٹیل اور شیشے کی عمارت کے اندر بلند سطح پر تعمیر ہونا تھا۔ دی لائن خود بھی نیوم کا ایک اہم حصہ ہے۔
نیوم منصوبہ تقریباً ایک دہائی قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 پروگرام کے اہم منصوبے کے طور پر سامنے آیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر سیاحت، کھیل، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں کو فروغ دینا ہے۔
تاہم نیوم کے منصوبوں میں حالیہ عرصے کے دوران تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ نیوم کے مالک سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے گورنر یاسر الرمیان نے رواں سال اپریل میں کہا تھا کہ ’’دی لائن‘‘ اب فوری ترجیح نہیں رہی اور 2030 تک اس کی تکمیل ضروری نہیں۔ انہوں نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ کسی منصوبے کو منسوخ نہیں کیا گیا۔
اب رائٹرز سے بات کرنے والے دو ذرائع کا کہنا ہے کہ نیوم اسٹیڈیم کی تعمیر کے منصوبے کو غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا گیا ہے۔ نیوم اور سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے اس معاملے پر رائٹرز کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ سعودی وزارت کھیل نے بھی سوالات کو 2034 ورلڈ کپ کی میزبانی کے اعلیٰ ادارے کی طرف بھیج دیا۔
میزبانی کے ادارے نے کہا کہ ورلڈ کپ سے متعلق تعمیراتی منصوبوں میں اہم پیش رفت جاری ہے، تاہم اس نے نیوم اسٹیڈیم کے مستقبل یا اس کی لاگت کے بارے میں سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا۔ ادارے نے دیگر زیر تعمیر اسٹیڈیمز کی تصاویر بھی فراہم کیں۔
سعودی عرب 2034 کے ورلڈ کپ کے لیے پانچ شہروں میں مجموعی طور پر 15 اسٹیڈیم تعمیر یا موجودہ اسٹیڈیمز کو جدید بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں تربیتی مراکز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ ورلڈ کپ پہلی مرتبہ 48 ٹیموں کے توسیع شدہ فارمیٹ میں ایک ہی ملک میں منعقد ہوگا۔
دبئی کی تعمیراتی صنعت کی مارکیٹ انٹیلی جنس کمپنی ”مِیڈ پروجیکٹ“ کے مطابق ورلڈ کپ سے متعلق سعودی عرب کے ان منصوبوں کی مجموعی مالیت تقریباً 22.7 ارب ڈالر ہے۔ کمپنی کے اعداد و شمار میں نیوم اسٹیڈیم کی متوقع لاگت تقریباً 2.5 ارب ڈالر بتائی گئی ہے اور اس منصوبے کی حیثیت ’’اون ہولڈ‘‘ یا ”روک دی گئی“ درج ہے۔ اس کے لیے اب تک کوئی تکمیل کی تاریخ بھی درج نہیں کی گئی۔
دوسری جانب باقی اسٹیڈیمز اور متعلقہ سہولیات مختلف مراحل میں زیر تعمیر ہیں، جن کی تکمیل کا ہدف 2026 سے 2033 کے درمیان رکھا گیا ہے۔ رائٹرز سے بات کرنے والے ایک اور ذریعے نے کہا کہ مختلف شہروں میں اسٹیڈیمز کی تعمیر اور منصوبوں کی جغرافیائی تقسیم بھی سعودی عرب کے لیے ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے۔
سعودی عرب کو معاشی دباؤ اور خطے میں جاری کشیدگی کا بھی سامنا ہے۔ ایران جنگ کے باعث توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ سعودی عرب کو ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز کی جانب سے حملوں کا بھی سامنا رہا ہے۔ سعودی وزارت خزانہ نے گزشتہ ہفتے رواں سال کے مالی خسارے کے پہلے اندازوں سے زیادہ ہونے کی توقع ظاہر کی اور تیل کی سرگرمیوں میں کمی کے باعث حقیقی مجموعی ملکی پیداوار میں 3.6 فیصد کمی کا اندازہ دیا۔
ان حالات میں سعودی عرب اپنے بڑے اور مہنگے ’’گیگا پراجیکٹس‘‘ کے حوالے سے حکمت عملی میں بھی تبدیلی لا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے ایسے منصوبوں سے توجہ ہٹا کر ان سرگرمیوں کو زیادہ اہمیت دینا شروع کی ہے جن سے نسبتاً جلد مالی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
اسی سلسلے میں ریاض کے نیو مربع منصوبے میں بننے والی دیوہیکل مکعب نما عمارت ’’المکعب‘‘ کی تعمیر بھی رواں سال جنوری میں روک دی گئی تھی۔ تاہم سعودی عرب کے تمام بڑے منصوبے رکے نہیں ہیں اور ورلڈ کپ سے متعلق کئی تعمیراتی کام بدستور جاری ہیں۔
مشرقی شہر الخبر میں زیر تعمیر آرامکو اسٹیڈیم بھی ان منصوبوں میں شامل ہے۔ اس کی تکمیل رواں سال کے اختتام تک متوقع ہے، جبکہ وہاں پہلا میچ جنوری میں کھیلے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق دیگر مجوزہ ورلڈ کپ اسٹیڈیمز پر بھی کام جاری ہے۔
یوں نیوم اسٹیڈیم کا منصوبہ روکنا سعودی عرب کے 2034 ورلڈ کپ کے پورے منصوبے کے رکنے کی علامت نہیں، بلکہ نیوم اور دیگر بڑے تعمیراتی منصوبوں کی ترجیحات میں ہونے والی وسیع تر تبدیلی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ تاہم اس فیصلے سے یہ سوال ضرور پیدا ہوا ہے کہ سعودی عرب مستقبل کے ان انتہائی مہنگے اور بلند عزائم والے منصوبوں میں سے کن منصوبوں کو مکمل کرے گا اور کن کا حجم مزید کم کیا جائے گا۔