امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے امکان پر آمادگی ظاہر کی۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ تہران کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
اُدھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا مذاکرات کا خواہاں نہیں بلکہ اس کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایران پر 3 مرتبہ حملے کیے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن حقیقی معنوں میں بات چیت نہیں چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے دشمن کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں جو قتل، پابندیوں، دباؤ اور دھمکیوں کا سہارا لیتا ہے اور اپنے وعدے پورے نہیں کرتا۔
دوسری جانب امریکی صدر نے برطانیہ کے ایک فوجی اڈے سے امریکی بمبار طیاروں کی واپسی کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایک مخصوص خطرے کے باعث بمبار طیاروں کو برطانیہ سے واپس بلایا گیا۔ ان کے مطابق وہ دشمن کو اس طرح کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے کہ امریکی بمبار طیارے برطانیہ میں موجود ہوں اور انہیں نشانہ بنایا جائے۔
امریکی طیاروں کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب برطانوی حکام ایک مشتبہ دہشت گردی کی سازش کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ برطانوی حکام نے واقعے میں ایران کے ممکنہ کردار کی جانب اشارہ کیا ہے، تاہم ایران نے ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور تحقیقات میں اب تک ایران سے تعلق کا حتمی عوامی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
ٹرمپ نے فلائی دبئی طیارے سے متعلق واقعے پر بھی ایران کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ذاتی طور پر اس واقعے کا ذمہ دار ایران کو سمجھتے ہیں۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے امریکی صدر نے اپنے سیاسی مخالفین اور روس یوکرین جنگ کو ذمہ دار قرار دیا۔ امریکا میں ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اس وقت سیاسی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہیں اور ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی پالیسیوں کا دفاع بھی کیا ہے۔
دریں اثنا، سائبیریا میں طاعون سے متعلق ایک تحقیقی ادارے کے ملازم کی موت کے معاملے پر بھی ٹرمپ نے روس کی مدد کی پیشکش کی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر روس کی مدد کرے گا۔
امریکی حکام روس کے شہر ارکتسک میں طاعون کے تحقیقی ادارے کے ایک ملازم کی موت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ روسی حکام نے متاثرہ افراد سے متعلق احتیاطی اقدامات کیے ہیں، تاہم واقعے کی مکمل نوعیت کے بارے میں ابھی مزید تحقیقات جاری ہیں۔