سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کے روٹ میں اچانک تبدیلی کا اعلان

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چار اکتوبر سے جاری لانگ مارچ کے حوالے سے اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ احتجاجی قافلے کے روٹ میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور اب مارچ پشاور سے پہلے ضلع خیبر کی جانب جائے گا۔

کوہاٹ میں یونیورسٹی چوک کے مقام پر لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ ابتدائی منصوبے کے تحت قافلے کو پشاور جانا تھا تاہم خیبر کے عوام کے شدید مطالبے اور میزبانی کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے شیڈول میں تبدیلی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جو پشاور سے چارسدہ کا پلان بنایا تھا اسے تبدیل کر دیا گیا ہے کیونکہ خیبر کے لوگ مہمانوں کی میزبانی کرنا چاہتے ہیں، اس لیے پہلے خیبر جائیں گے اور اس کے بعد پشاور کا رخ کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس مارچ کو کرکٹ کے کھیل سے تشبیہ دی اور کہا کہ ہم ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں، ابھی بہت سے اوورز اور کھلاڑی باقی ہیں، اس لیے آرام آرام سے کھیلا جائے گا۔

تین روز قبل لکی مروت سے شروع ہونے والا یہ لانگ مارچ کرک اور کوہاٹ سے ہوتا ہوا اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے تحریکِ انصاف کو مشروط مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی اپنے لانگ مارچ اور دھرنوں کو ختم کرے تو حکومت ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ اسی لیے کیا تھا تاکہ انہیں اس راستے کو ترک کرنے پر آمادہ کیا جا سکے، لیکن آخری مراحل میں طے شدہ امور پر دوبارہ تبدیلیوں کا مطالبہ کر کے مذاکرات کو ناکام بنایا گیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دھرنوں اور مارچ کی سیاست سے ملک کی معیشت اور ترقی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے اور حکومت قانون کے مطابق عوام کے جان و مال کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔

وزیراعظم کی اس پیشکش کے ردِعمل میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ منقطع ہونا ہی نہیں چاہیے تھا اور بات چیت کو لانگ مارچ ختم کرنے سے مشروط نہ کیا جائے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم بغیر کسی پیشگی شرط کے حکومت سے مذاکرات کے لیے بیٹھے تھے تاہم حکومت نے وہ سنجیدگی اور فراخ دلی نہیں دکھائی جو ضروری تھی۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر عائد ہوتی ہے اور تاکید کی کہ دونوں فریقین کو مسلسل اور باقاعدگی سے بیٹھ کر تمام تحفظات کا سنجیدہ حل نکالنا چاہیے۔

Related posts