فرانس میں پُرتشدد احتجاج: طلبہ کے 7 مطالبات کیا ہیں؟
فرانس میں اسکولوں کی صورتحال کے خلاف طلبہ، اساتذہ اور والدین کا احتجاج شدت اختیار کرگیا ہے، 6 اکتوبر کو ملک کے مختلف شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، احتجاج کے دوران کئی شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک کے درجنوں شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں دو لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی، جبکہ احتجاج کے منتظمین نے شرکا کی تعداد ساڑھے چار لاکھ بتائی۔ پیرس، اسٹراسبرگ اور رین سمیت کئی شہروں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
یہ احتجاج کسی ایک مسئلے کے خلاف نہیں بلکہ فرانس کے تعلیمی نظام میں درپیش متعدد مسائل پر طلبہ اور ان کے حامیوں کی شکایات کا اظہار ہے۔ مظاہرین نے بنیادی طور پر درج ذیل سات مطالبات اور مسائل اجاگر کیے ہیں۔
1۔ اساتذہ کی کمی
طلبہ کا کہنا ہے کہ کسی استاد کے غیر حاضر ہونے کی صورت میں اکثر متبادل استاد دستیاب نہیں ہوتا، جس کے باعث کلاسز منسوخ ہوجاتی ہیں یا طلبہ اپنی مقررہ تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔ حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے غیر حاضر اساتذہ کی جگہ متبادل اساتذہ کی فراہمی کے نظام کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
2۔ کلاس رومز میں طلبہ کی زیادہ تعداد
طلبہ اور اساتذہ کے مطابق کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ ہونے کے باعث تدریس مشکل ہوجاتی ہے اور ہر طالب علم پر انفرادی توجہ دینا ممکن نہیں رہتا۔ اساتذہ کی کمی بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہے۔
3۔ اسکولوں کی خستہ حال عمارتیں
مظاہرین نے متعدد اسکولوں کی عمارتوں کی خراب حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ بعض اسکولوں میں پانی کے رساؤ اور چوہوں کی موجودگی جیسے مسائل کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ انہیں بنیادی سہولیات سے محروم اور ناقص حالت والی عمارتوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
4۔ اسکول کے طویل اوقات
طلبہ نے اسکول کے طویل اوقات پر بھی اعتراض کیا ہے۔ بعض اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں صبح تقریباً 8 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہتی ہیں۔
وزیراعظم سباستیان لکورنو نے وزرا کو اسکول کے اوقات اور طلبہ کے لیے دوپہر کے کھانے کے وقفے کے دورانیے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
5۔ تعلیمی وسائل کی کمی
مظاہرین کا ایک بڑا مطالبہ تعلیمی شعبے میں مزید سرمایہ کاری بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے مطلوبہ سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث اسکولوں کو اساتذہ، عمارتوں کی دیکھ بھال اور بنیادی تعلیمی وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق فرانس میں تعلیم پر ہونے والے اخراجات بھی مہنگائی کی رفتار کے مطابق نہیں بڑھ سکے۔
6۔ تمام طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع نہ ملنا
طلبہ نے تعلیمی عدم مساوات کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق خاص طور پر کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات نہیں ملتیں اور ان کے تعلیمی معیار پر علاقے کا براہِ راست اثر پڑتا ہے۔
احتجاج کا آغاز ستمبر میں پیرس کے مضافاتی پسماندہ علاقوں سے ہوا تھا، جو بعد میں ملک کے دیگر حصوں تک پھیل گیا۔
7۔ طلبہ پر تعلیمی دباؤ
مظاہرین نے تعلیمی دباؤ، طلبہ کے لیے معاون عملے کی دستیابی اور یونیورسٹی میں داخلے کے پیچیدہ عمل سے پیدا ہونے والے مسائل کی بھی نشاندہی کی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی کمی، بڑی کلاسیں، خستہ حال عمارتیں اور طویل تعلیمی اوقات پہلے سے مشکل تعلیمی ماحول میں دباؤ مزید بڑھا دیتے ہیں۔
حکومت نے کیا اقدامات کیے؟
فرانسیسی حکومت نے طلبہ کے اہم مطالبات کا جائزہ لینے کی ہدایت کردی ہے، جن میں غیر حاضر اساتذہ کے متبادل کی فراہمی، اسکول کے اوقات، دوپہر کے وقفے اور پرانی عمارتوں کی مرمت شامل ہیں۔
تاہم مظاہرین حکومتی اقدامات کے بارے میں اب بھی محتاط ہیں۔ احتجاج کے دوران سیاسی کشیدگی بھی پیدا ہوئی اور مختلف شہروں میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
مظاہرین کا بنیادی مؤقف تعلیمی نظام میں بہتری، اساتذہ کی تعداد بڑھانے، اسکولوں کی بہتر دیکھ بھال، طلبہ کے لیے مناسب تعلیمی اوقات اور شعبہ تعلیم میں مزید سرمایہ کاری کا مطالبہ ہے۔