کراچی سے متحدہ عرب امارات جانے والی 3 خواتین کو آف لوڈ کردیا گیا

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات جانے والی 2 بہنوں اور ان کی والدہ کو آف لوڈ کردیا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق سفری دستاویزات اور مقصدِ سفر کی جانچ پڑتال کے دوران انسانی اسمگلنگ اور کم عمر لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال کے خدشات سامنے آئے، جس کے بعد معاملے کی مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران متحدہ عرب امارات جانے والی تین خواتین سے پوچھ گچھ کی گئی، ان میں دو بہنیں اور ان کی والدہ شامل تھیں۔

ترجمان کے مطابق دورانِ تفتیش ایک لڑکی نے اپنی عمر 16 سے 17 سال بتائی اور الزام عائد کیا کہ اس کی شناختی اور سفری دستاویزات میں عمر زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔ لڑکی نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسے متحدہ عرب امارات میں کلبوں اور ہوٹلوں میں جنسی سرگرمیوں کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔

ایف آئی اے حکام نے سفری دستاویزات اور سفر کے مقصد کی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر انسانی اسمگلنگ اور کم عمر لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال کے خدشات کا جائزہ لیا۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران لڑکی کی والدہ کے موبائل فون سے مبینہ ایجنٹ حارث کے ساتھ واٹس ایپ پیغامات سامنے آئے۔ ان پیغامات میں ویزوں، ٹکٹوں، سفری اخراجات اور لڑکیوں کی آمدن سے متعلق گفتگو موجود تھی۔

حکام کو موبائل فون سے 4 لاکھ روپے کی بینک ٹرانزیکشن کی رسید بھی ملی ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق اس رقم کے مالی روابط اور لین دین کے مقصد کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق موبائل فون سے حاصل ہونے والے پیغامات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی تصدیق ضروری ہے، جس کے لیے فرانزک جانچ بھی درکار ہے۔ اس عمل کے ذریعے مبینہ ایجنٹ کے ساتھ رابطوں، سفری انتظامات اور مالی لین دین کی نوعیت کا جائزہ لیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق تینوں مسافروں کو مزید تحقیقات اور ضروری قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ حکام کے حوالے کرنے کی کارروائی کی گئی ہے۔

حکام معاملے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم مبینہ ایجنٹ کے کردار، مالی لین دین کی نوعیت اور لڑکی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق اور مزید شواہد سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

Related posts