پوپ لیو میں کینسر کی تشخیص، پھیپھڑے کا ایک حصہ نکال دیا گیا

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے بعد ڈاکٹروں نے منگل کو آپریشن کرکے ان کے دائیں پھیپھڑے کا نچلا حصہ نکال دیا۔ ویٹی کن کے مطابق سرجری کامیاب رہی اور اس دوران کوئی پیچیدگی پیش نہیں آئی۔ 71 سالہ پوپ اس وقت روم کے جیمیلی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویٹی کن کی جانب سے جاری کردہ طبی بیان میں بتایا گیا کہ پوپ لیو کو پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک عام قسم ’لَنگ ایڈینوکارسینوما‘ لاحق ہے۔ آپریشن کے دوران نکالے گئے ٹشو کے معائنے سے اس تشخیص کی تصدیق ہوئی، جس کا شبہ ڈاکٹروں کو ابتدائی طبی جانچ کے دوران ہو گیا تھا۔

پوپ کو حال ہی میں معمول کے طبی معائنے کے دوران پھیپھڑے میں رسولی کا پتا چلا تھا، جسے نکالنے کے لیے انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا۔ ان کے مرکزی سرجن ڈاکٹر اسٹیفانو مارگریٹورا اور ذاتی معالج ڈاکٹر لوئیجی کاربونے کے مطابق آپریشن تقریباً 90 منٹ جاری رہا۔ سرجری ویڈیو کی مدد سے کیے جانے والے طریقے کے تحت انجام دی گئی، جس میں دائیں پھیپھڑے کا نچلا حصہ نکال دیا گیا تاکہ کینسر زدہ ٹشو کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

انسان کے پھیپھڑوں میں مجموعی طور پر پانچ حصے ہوتے ہیں، جن میں سے تین دائیں اور دو بائیں پھیپھڑے میں ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں نے پوپ کے دائیں پھیپھڑے کا نچلا حصہ نکالا ہے۔

تاہم، ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ رسولی کا حجم کتنا تھا اور آیا کینسر پھیپھڑوں کے قریب موجود لمف نوڈز تک پھیل چکا تھا یا نہیں۔ یہ معلومات بیماری کی شدت، آئندہ علاج اور صحت یابی کے امکانات کا اندازہ لگانے کے لیے اہم ہیں۔

امریکا کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ماہرِ سرطان ڈاکٹر اسٹیفن لیو نے رائٹرز کو بتایا کہ صرف تشخیص سامنے آنے سے بیماری کی مکمل شدت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ اس کا مرحلہ معلوم ہونا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر کینسر ابتدائی مرحلے میں ہو اور لمف نوڈز تک نہ پھیلا ہو تو سرجری سے بیماری کا مکمل علاج ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر مزید معائنے میں کینسر کے پھیلاؤ کا پتا چلے تو صحت یابی کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ویٹی کن کے مطابق آپریشن کے بعد پوپ لیو ہوش میں آگئے اور انہیں ان کے اسپتال کے کمرے میں منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ آرام کر رہے ہیں۔ ان کی اسپتال میں تقریباً ایک ہفتہ قیام کی توقع ہے، جبکہ 20 اکتوبر تک ان کی تمام عوامی مصروفیات منسوخ کر دی گئی ہیں۔

آپریشن سے قبل پوپ ویٹی کن سے ایک سیاہ گاڑی میں روانہ ہوئے اور اسپتال پہنچنے پر وہاں موجود لوگوں سے مصافحہ کیا، وہاں موجود افراد نے انہیں صحت یابی کی دعائیں دیں۔

 (اٹلی کے شہر روم میں 13 اکتوبر 2026 کو آپریشن کے لیے ویٹی کن سے اسپتال روانہ ہونے سے قبل پوپ لیو، لوگوں کو ہاتھ ہلا کر جواب دے رہے ہیں)
(اٹلی کے شہر روم میں 13 اکتوبر 2026 کو آپریشن کے لیے ویٹی کن سے اسپتال روانہ ہونے سے قبل پوپ لیو، لوگوں کو ہاتھ ہلا کر جواب دے رہے ہیں)

اس موقع پر پوپ نے لوگوں کو مسکرا کر اور ہاتھ ہلا کر جواب دیا اور اسپتال کے مرکزی دروازے سے اندر چلے گئے۔

پوپ لیو کو مئی 2025 میں دنیا بھر کے کارڈینلز نے کیتھولک چرچ کا سربراہ منتخب کیا تھا۔ ان کا اصل نام رابرٹ پریوسٹ ہے اور وہ 1955 میں امریکی شہر شکاگو میں پیدا ہوئے۔ پوپ بننے سے پہلے وہ کئی دہائیوں تک پیرو میں مشنری اور بشپ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

وہ کھیلوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، خاص طور پر ٹینس کھیلنا پسند کرتے ہیں، جبکہ ان کے سگریٹ نوشی کرنے یا حالیہ عرصے میں کسی بڑے طبی مسئلے کا شکار ہونے کی اطلاعات نہیں تھیں۔

 (اٹلی کے شہر روم میں 13 اکتوبر 2026 کو  آپریشن سے قبل پوپ لیو، جیمیلی اسپتال پہنچ رہے ہیں۔)
(اٹلی کے شہر روم میں 13 اکتوبر 2026 کو آپریشن سے قبل پوپ لیو، جیمیلی اسپتال پہنچ رہے ہیں۔)

ان کے پیش رو پوپ فرانسس اپنی زندگی کے آخری برسوں میں متعدد مرتبہ اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کا انتقال اپریل 2025 میں 88 سال کی عمر میں ہوا تھا۔

پوپ لیو کا معمول بھی خاصا مصروف رہتا ہے۔ ان کے شیڈول کے مطابق انہیں 6 سے 17 نومبر تک یوراگوئے، ارجنٹینا اور پیرو کا 11 روزہ دورہ کرنا ہے، تاہم کینسر کی تشخیص اور آپریشن کے بعد اس دورے کے انعقاد کے بارے میں صورت حال واضح نہیں ہے۔

دنیا کے تقریباً ایک ارب 40 کروڑ کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا ہونے کے باوجود پوپ کے لیے کوئی ایسا نائب مقرر نہیں ہوتا جو ان کی بیماری کے دوران خودکار طور پر ان کی جگہ لے سکے۔ اگر پوپ عارضی طور پر فرائض انجام دینے کے قابل نہ ہوں تو ویٹی کن کے انتظامی امور معمول کے مطابق جاری رہتے ہیں، تاہم ایسے فیصلے مؤخر کیے جا سکتے ہیں جن کے لیے پوپ کی منظوری ضروری ہو۔

پوپ لیو کو ماضی میں بھی ایک سنگین بیماری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 1985 میں، جب وہ نوجوان پادری تھے، پیرو کے شہر چولیکاناس میں انہیں ٹائیفائیڈ بخار ہوا تھا اور اسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا۔ انہوں نے پوپ بننے کے بعد اپنی ایک اہم گفتگو میں اس بیماری کا ذکر کیا تھا۔

پوپ کے مطابق اس وقت انہیں شدید تکلیف کا سامنا تھا اور درد سے نجات کے لیے انہوں نے خدا سے موت کی دعا تک کی تھی۔ تاہم، صحت یاب ہونے کے بعد انہوں نے اس تجربے کو اس بات کی علامت سمجھا کہ انہیں ابھی دنیا میں رہ کر اپنے فرائض انجام دینے ہیں۔

Related posts