ایران کی امریکی انتخابات متاثر کرنے کے لیے بحری جہازوں پر حملے تیز کرنے کی تیاری
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو بلند ترین سطح پر رکھنے کے لیے نئی جنگی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ اس نئی حکمتِ عملی کا مقصد نومبر میں ہونے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات پر اثر انداز ہونا ہے۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں دو سینئر ایرانی حکام کا حوالی دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران کی جانب سے یہ نئی حکمت عملی 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ شروع ہونے والی عسکری کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والے صورتحال کا حصہ ہے، جس کے تحت گزشتہ دس دنوں سے نہ صرف حملوں کی نوعیت اور رفتار میں تبدیلی لائی گئی ہے بلکہ ان کا جغرافیائی دائرہ کار بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کی منظور شدہ اس نئی حکمت عملی کا بنیادی مقصد امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تیل کی قیمتیں کم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔
تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر کے انتخابات سے قبل تیل کی قیمتوں میں کمی کی اجازت نہیں دے گا اور اب تجارتی جہازوں کو نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ خلیج عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں میں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطہ جلد ہی آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں ایرانی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی جہاز کو گزرنے نہیں دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایک امریکی فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ امریکی حملوں میں ایران کا بیشتر ریڈار نظام اور بحریہ تباہ ہونے کے بعد پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے نئے حربے اپنانا شروع کیے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایران اب لکڑی کی چھوٹی کشتیوں میں غیر مسلح اسپاٹرز کے ذریعے امریکی بحریہ اور تجارتی جہازوں کی نشاندہی کر کے حملے کروا رہا ہے۔
امریکی فورسز نے حال ہی میں ایسی ہی ایک مشکوک لکڑی کی کشتی کی نشان دہی کے بعد اسے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکا نے بھی ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندش اور معاشی پابندیوں کا گھیرا تنگ کر رکھا ہے۔
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی سمندری ادارے اور برطانوی بحریہ کے سیکیورٹی اداروں (یو کے ایم ٹی او) کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز اور اطراف کے سمندری راستوں میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز پر ڈرون حملوں اور ہراساں کیے جانے کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
امریکا میں نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات کی مہم کے دوران ایران کے ساتھ جنگ اور اس پر آنے والے تین ارب ڈالر ماہانہ کے اخراجات اہم ترین موضوع بنے ہوئے ہیں، جبکہ سمندری راستوں میں کشیدگی، جہاز رانی کے خطرات اور انشورنس کی بلند قیمتوں نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔