خیبرپختونخوا میں ‘آئینی ایٹم بم’ کے استعمال کی ذمہ دار خود پی ٹی آئی ہے: بلاول

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے سیاسی خودکش حملہ کیا ہے اور صوبے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیاسی، قانونی اور آئینی صورتحال کی تمام تر ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم، اسی دوران انہوں نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کرنے کی تجویز بھی دی۔

بدھ کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو اس وقت شدید جنگی اور غیر معمولی سکیورٹی حالات کا سامنا ہے، جہاں دہشت گردی کے خلاف مؤثر انداز میں نمٹنے کے بجائے دیگر امور کو ترجیح دی گئی، اور اگر صدرِ پاکستان اس سمری پر دستخط نہ کرتے تو صوبائی حکومت کو اپنے مؤقف کے حق میں کوئی واضح جواز پیش کرنا پڑتا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے وضاحت کی کہ ان کی جماعت اور صدرِ پاکستان کا مؤقف ابتدا ہی سے یہ رہا تھا کہ ”آئینی ایٹم بم“ استعمال کرنے سے پہلے پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن کے ساتھ جامع مذاکرات کیے جائیں تاکہ وفاقی حکومت کے تحفظات دور کیے جا سکیں، بالخصوص یہ تاثر ختم کیا جا سکے کہ صوبائی حکومت ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کرنے سے گریزاں ہے۔

بلاول نے بتایا کہ ان کی جماعت کے دو نمائندے اس مذاکراتی کمیٹی کا حصہ تھے جو اپوزیشن سے بات چیت کر رہی تھی، اور اگرچہ ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں مذاکرات کی کامیابی کے امکانات محدود دکھائی دے رہے تھے، تاہم رات گئے انہیں اطلاع ملی تھی کہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور اپوزیشن کے ساتھ اتفاقِ رائے پیدا ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران یہ تجویز زیر غور تھی کہ خیبرپختونخوا کے دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں صوبائی حکومت اپنا فعال کردار ادا کرے، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی معاہدے کے ذریعے طے کریں کہ اس ناسور کا مشترکہ طور پر کس طرح مقابلہ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ حکومت، اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کے درمیان دہشت گردی جیسے اہم قومی معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہونے کی امید روشن ہوئی تھی جسے وہ ملکی سیاست میں ایک بڑی کامیابی سمجھتے تھے۔

انہوں نے زور دیا کہ موجودہ کڑے حالات میں ذاتی یا سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ریاست اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام فریقوں کو سنجیدہ اور متفقہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔

بلاول نے کہا کہ وفاقی حکومت کو تجویز ہے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالیں، ہم سب اپنا ہاتھ اپوزیشن کی طرف بڑھاتے ہیں کہ آئیں اور بات چیت کریں۔



Related posts