ٹرمپ نے روس پر نئی عائد پابندیاں فعال ہونے سے پہلی ہی ختم کر دیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی تیل و گیس کی فروخت سے متعلق نئی پابندیاں نافذ ہونے سے چند روز قبل ہی ان پر عمل درآمد روک دیا۔ فیصلے پر امریکی قانون سازوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے روس پر دباؤ کم اور یوکرین کی حمایت متاثر ہوگی۔
امریکی میڈیا سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ نے جمعے کو جاری کیے گئے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے پابندیوں میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا۔ یہ پابندیاں گزشتہ ماہ منظور کیے گئے قانون کے تحت عائد کی جانی تھیں۔ ٹرمپ نے کانگریس کو آگاہ کیا کہ موجودہ حالات میں پابندیوں سے چھوٹ دینا امریکا کے قومی مفاد میں ہے، تاہم حکم نامے میں اس فیصلے کی واضح وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔ یہ چھوٹ اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ٹرمپ انتظامیہ مزید اقدامات کو ضروری قرار نہیں دیتی۔
مجوزہ قانون کے تحت روسی خام تیل یا گیس کے پانچ بڑے درآمد کنندگان سے امریکا آنے والی اشیا پر 100 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے تھے۔ روسی تیل اور گیس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے روسی حکومت کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
امریکی حکومت نے حالیہ دنوں میں یوکرین پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ روس کی تیل تنصیبات پر حملے روک دے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی لانے میں مدد مل سکے۔
یوکرین نے مختصر وقت کے لیے اس درخواست پر عمل کیا، تاہم بعد میں روسی تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع کر دیے۔ دوسری جانب روس نے بھی پورے ہفتے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا جاری رکھا۔
ٹرمپ کے فیصلے کا روس میں خیرمقدم کیا گیا۔ روس کے خودمختار دولت فنڈ کے سربراہ کیرل دمترییف نے سوشل میڈیا پر اسے ایک اہم اور تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس اور امریکا کے درمیان معاشی تعاون دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
تاہم امریکی قانون سازوں نے اس فیصلے پر سخت تنقید کی۔ ڈیموکریٹ سینیٹر الزبتھ وارن نے اسے قیادت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس میں یوکرین کی حمایت کے لیے مضبوط دو جماعتی اتفاق رائے موجود ہے۔ ان کے مطابق پابندیوں میں چھوٹ دے کر ٹرمپ نے کانگریس کی ہدایات کو نظرانداز کیا اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو جنگ جاری رکھنے کے لیے سہولت فراہم کی۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن ڈان بائر نے بھی ٹرمپ کے فیصلے کو روس کے سامنے ایک اور پسپائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یوکرین کے اتحادیوں کو مایوسی ہوئی ہے۔
پابندیوں سے متعلق قانون کی تیاری میں کردار ادا کرنے والے سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے بھی فیصلے پر اعتراض کیا اور کہا کہ ان چھوٹوں کا امریکی قومی سلامتی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان کا مقصد پیوٹن کو خوش کرنا ہے۔
یہ فیصلہ امریکا اور یوکرین کے تعلقات میں ایک کشیدہ ہفتے کے اختتام پر سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے روسی ڈیزل کی برآمدات کی اجازت دینے سے متعلق ایک معاہدہ کیا تھا، جس پر یورپی رہنماؤں کو بھی حیرت ہوئی۔ زیلنسکی نے اس اقدام پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے انہیں دھوکا دیے جانے کا احساس ہوا۔ امریکا میں بھی اس معاہدے کو دونوں بڑی جماعتوں کے ارکان کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
ٹرمپ نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار روس اور یوکرین کی جنگ کو قرار دیا ہے۔ اس طرح وہ ایران کے خلاف جاری امریکی جنگ کے معاشی اثرات اور اس معاملے پر ووٹرز کی ناراضی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو امریکا میں خاصی غیر مقبول ہے۔ دوسری جانب پابندیوں میں نرمی اور روسی تیل کی تجارت سے متعلق حالیہ فیصلوں نے واشنگٹن اور یورپ میں یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ روسی صدر پیوٹن کو فائدہ پہنچانے والے اقدامات کر رہی ہے۔