پی ٹی آئی کے 40 اراکین اسمبلیوں سے استعفا نہیں دیں گے: طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حکومت کے ساتھ جاری سیاسی مذاکرات کے مسودے (ڈرافٹ) کی منظوری افغانستان سے حاصل کر رہے تھے۔

طارق فضل چوہدری نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ یہ مذاکرات وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر شروع کیے گئے تھے اور حکومت کو قومی بہتری کے لیے ان کے نتیجہ خیز ہونے کی کافی امیدیں تھیں۔

طارق فضل چوہدری نے مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے دوران جو چوتھا ڈرافٹ تیار کیا گیا تھا، اس کی حتمی منظوری اس وقت کے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دینا تھی۔ تاہم موصول ہونے والی معلومات کے مطابق صوبائی حکومت اور سابق وزیراعلیٰ اس ڈرافٹ کو حتمی شکل دینے اور منظوری کے لیے افغان حکام سے رابطے میں تھے۔

وفاقی وزیر نے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے کردار اور میڈیا پر سامنے آنے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محمود اچکزئی کا موقف تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات کا عمل ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے تیار کردہ ڈرافٹ میں ملاقات کا طریقہ کار، وقت اور معاملے کا ایک مستند سیاسی حل موجود تھا، اور اگر اس وقت چیزیں طے پا جاتیں تو صوبے اور ملک میں سیاسی صورت حال آج مختلف ہوتی۔

سیاسی مستقبل اور اپوزیشن کے ممکنہ اقدامات پر بات کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا بھی گیا تو ان کے کم از کم 40 اراکینِ اسمبلی اپنے عہدوں سے استعفا نہیں دیں گے۔

بعد ازاں طارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی توثیق کر دی ہے اور یہ قدم کسی سہولت کے لیے نہیں بلکہ خطے میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں وسائل سے زیادہ مسائل موجود ہیں اور سابق فاٹا کے علاقوں میں دہشت گردی کا گراف بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت، افغانستان کے ذریعے خطے میں فعال دہشت گردوں کی مالی معاونت کر رہا ہے، اور حکومت کا واضح ہدف اس دہشت گردی اور اس کے سیاسی و انتظامی گٹھ جوڑ کا ہر صورت خاتمہ کرنا ہے۔

طارق فضل چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ملک کو ہر قسم کی دہشت گردی سے پاک کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد میں وفاقی حکومت کے پاس کامیابی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔

Related posts